شَرمُ الشیخ میں غزہ امن کانفرنس: سعودی وزیرِ خارجہ کی ٹرمپ اور السیسی سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جب عالمی رہنما غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے شَرمُ الشیخ میں جمع ہوئے۔
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے امریکا کی قیادت میں تیار کردہ 20 نکاتی منصوبے پر غور کیا، جس کا مقصد جاری عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: ترکی اور عراق کی شدید مخالفت کی وجہ سے نیتن یاہو نے غزہ سمٹ میں شرکت منسوخ کردی، رپورٹ
اس موقع پر ایک اعلامیہ پر بھی دستخط کیے گئے، جو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملوں کے دوران لیے گئے باقی 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کردیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے 1,968 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔
امریکی امن منصوبہ اس امید کو زندہ رکھتا ہے کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست بالآخر قائم ہو سکتی ہے، البتہ اس سے قبل طویل عبوری دور اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کی امریکی اور ترک وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، غزہ امن معاہدے پر تبادلہ خیال
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ سے خطاب کیا۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت نے امریکی امن منصوبے کی حمایت کی ہے، تاہم وہ فلسطینی آزادی کے تصور کی بارہا مخالفت کر چکی ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے یہ اجلاس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نمائندگی میں شرکت کرتے ہوئے اٹینڈ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان غزہ غزہ امن سربراہی اجلاس مصری صدر عبدالفتاح السیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہزادہ فیصل بن فرحان غزہ امن سربراہی اجلاس مصری صدر عبدالفتاح السیسی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز