سینیٹ ضمنی الیکشن: خرم ذیشان سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ہدایات مل چکی ہیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
بیرسٹر گوہر — فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مجھے سینیٹ ضمنی الیکشن میں خرم ذیشان سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ہدایات مل چکی ہیں۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سینیٹ ضمنی الیکشن کے لیے وہی امیدوار ہوگا جس کی منظوری بانی پی ٹی آئی نے دی۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کوورنگ امیدوار بھی کاغذات جمع کرائیں گے۔ کوورنگ امیدواروں سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ہدایات لینا باقی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام معاملات طے ہونے کے بعد امیدواروں کو سینیٹ ضمنی الیکشن کے لیے ٹکٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کے پی نے سینیٹ کی خالی نشست پر الیکشن کے لیے خرم ذیشان کو امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ شبلی فراز کی نااہلی پر خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر 30 اکتوبر کو ضمنی الیکشن ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹ ضمنی الیکشن بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔