لاہور ہائی کورٹ نے منگل کے روز جماعتِ اسلامی (جے آئی) کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور چیف سیکریٹری کو طلب کر لیا۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس فاروق حیدر نے جے آئی لاہور کے امیر ضیاالدین انصاری کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں، جب کہ پنجاب میں حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کا عمل 3 بار مکمل کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی قانون سیکریٹری کو بارہا ضروری نوٹی فکیشن جاری کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن ای سی پی کو بتایا گیا کہ ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ آخر پنجاب واحد صوبہ کیوں ہے جہاں اب تک بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔

وفاقی حکومت کے ایک لا افسر نے عدالت کو بتایا کہ وفاق صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔

عدالت نے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور چیف سیکریٹری کی ذاتی طور پر حاضری کا حکم دیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں بلاجواز تاخیر صوبے میں مقامی ترقی اور احتساب کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت اپنے آئینی فریضے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ حکام کو فوری طور پر انتخابات کرانے کے احکامات دے اور تاخیر کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا