پارکس کو نجی افراد کے حوالے کرنے پرمیئر ودیگر سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-08-13
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کی جانب سے پارکس کو نجی افراد کے حوالے کئے جانے کا معاملہ،سندھ ہائیکورٹ نے مئیر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے سے 21 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔ اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین کی میئر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورت میں ہوئی جہاں عدالت نے مئیر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے سے 21 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا درخواست گزار کے وکیل کا کہناتھا کہ عدالت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدوں کو غیرقانونی قرار دیا تھا، کے ایم سی نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارکوں پر کمرشل سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، کے ایم سی نے رفاہی پلاٹوں کو اب تک واگزار نہیں کرایا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔