سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان پہنچ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 8 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز) سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بعد اعلیٰ سطحی سعودی کاروباری وفد پاکستان پہنچ گیا۔ وفد کی قیادت پرنس منصور بن محمد السعود کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے سعودی سرمایہ کاروں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں اعلیٰ حکومتی حکام اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر سردار یاسر الیاس نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان میں روزگار، سیاحت اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین مقام ہے اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

دورے کے دوران سعودی وفد نے پاکستانی بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں کیں اور مختلف سرمایہ کاری منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ ملاقاتوں میں منرلز، زراعت، آئی ٹی، توانائی، انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سردار یاسر الیاس نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات نئی بلندیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو عالمی سطح پر فروغ ملے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات دسمبر کے آخری ہفتے میں ہوں گے: الیکشن کمیشن کا فیصلہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اختلافات: وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کرلیا، پی ٹی آئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار ایمل ولی نے سینیٹ میں اپنی تقریر پر وزیراعظم سے معافی مانگ لی گھر سے بھاگ کر کورٹ یا لو میرج کرنے کا نکاح نامہ رجسٹرڈ نہ کرنے کا حکم کمپٹیشن کمیشن نے اسٹیل انڈسٹری میں کارٹلائزیشن کے خلاف بڑا فیصلہ سنا دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کی سرمایہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم