سونے کی قیمت آسمان پر جاپہنچی، فی تولہ بھاؤ 4 لاکھ 25 ہزار روپے سے بھی تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
ملک بھر میں سونےکی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، سونے کا فی تولہ بھاؤ 4 لاکھ 25 ہزار روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط کا فی تولہ سونا 8ہزار 400 روپے اضافے سے 4لاکھ 25ہزار178 روپے کا ہوگیا۔
اسی طرح 24 قیراط کے 10گرام سونے کی قیمت 7 ہزار 202 روپے اضافےسے3 لاکھ 64 ہزار 521 روپے ہوگئی، عالمی مارکیٹ میں 84 ڈالرکے اضافے سے سونے کی فی اونس قیمت تاریخ میں پہلی بار 4 ہزار ڈالر کی حد عبور کرگئی اور فی اونس سونا 4 ہزار 39 ڈالر فی اونس ہوگیا۔
فی تولہ چاندی 55 روپے کے اضافے سے 4 ہزار 984 روپے پرپہنچ گئی، اسی طرح 10گرام چاندی کی قیمت47 روپے کے اضافےسے 4 ہزار 272روپے ہوگئی، عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت48.
خبر رساں ادارے ارائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں نے عالمی معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے خلاف تحفظ کے طور پر سونے میں تاریخی پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، ساتھ ہی امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات نے بھی اس رجحان کو تقویت دی۔
بدھ کو صبح 8 بج کر 20 منٹ جی ایم ٹی تک اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی اونس 4 ہزار 39.10 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.4 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 61.80 ڈالر تک جا پہنچے، چاندی بھی سونے کے رجحان سے مستفید ہوئی اور 2 فیصد اضافے کے ساتھ فی اونس 48.76 ڈالر پر پہنچ گئی، جو اس کی تاریخ کی بلند ترین سطح 49.51 ڈالر سے ذرا نیچے ہے۔
روایتی طور پر سونا عدم استحکام کے ادوار میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے, 2025 کے آغاز سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں تقریباً 54 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ 2024 میں یہ 27 فیصد بڑھا تھا، اس لحاظ سے سونا 2025 کے بہترین کارکردگی دکھانے والے اثاثوں میں شامل ہے، جس نے عالمی حصص بازاروں اور بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جب کہ ڈالر اور تیل کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ تیزی متعدد عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے، جن میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی، سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری، سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری اور کمزور ڈالر شامل ہیں۔
اسٹون ایکس کی تجزیہ کار رونا او کونل نے کہا کہ ’حالات وہی پرانے ہیں، علاقائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور اب اس میں حکومتی شٹ ڈاؤن کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ شٹ ڈاؤن حصص بازاروں کو نہیں روک رہا، تاہم سرمایہ کار خطرے سے بچاؤ کے لیے سونا خرید رہے ہیں‘۔
امریکا میں 8 روز سے جاری سرکاری شٹ ڈاؤن نے اہم معاشی اعداد و شمار کی اشاعت مؤخر کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کو فیڈرل ریزرو کے فیصلوں کے اندازے کے لیے غیر سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
مارکیٹ فیڈ کے آئندہ اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس کی شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے، جب کہ دسمبر میں بھی ایسی ہی ایک اور کمی کا امکان ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع، یوکرین کی جنگ، اور فرانس و جاپان میں سیاسی ہلچل نے بھی سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔
ڈوئچے بینک کے تجزیہ کار مائیکل شوئے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں پانچ سال بعد پہلی بار سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفس) میں دوبارہ سرمایہ کاری شروع ہوئی ہے، جو اس رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں بھی سونے کی قیمتوں کو مرکزی بینکوں کی خریداری، ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری اور امریکی شرحِ سود میں کمی سے سہارا ملے گا، جس کے باعث گولڈمین ساکس اور یو بی ایس نے اپنی قیمت کی پیشگوئیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
وزڈم ٹری کے کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ نیتیش شاہ نے کہا کہ ’ہم نے توقع کی تھی کہ سونا 4 ہزار ڈالر کی سطح پر سال کے اختتام کے قریب پہنچے گا، مگر موجودہ رجحان ہمارے مجموعی اندازے کے مطابق ہی ہے‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ 2026 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک قیمت 4 ہزار 530 ڈالر فی اونس تک پہنچ جائے گی‘۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ’مواقع کھونے کے خوف‘ نے بھی سرمایہ کاروں کو اس رجحان میں شامل کر رکھا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوفو نے کہا کہ ’فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کم شرحِ سود کی حامی ہے، جو سونے کی کشش میں اضافہ کر رہی ہے‘۔
سونے کے ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جس میں پلاٹینیم 1.7 فیصد بڑھ کر فی اونس ایک ہزار 646.19 ڈالر اور پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار 393.06 ڈالر پر پہنچ گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈالر پر پہنچ سرمایہ کاری سرمایہ کار تجزیہ کار کے مطابق پہنچ گئی کے ساتھ سونے کی کی قیمت فی اونس فی تولہ کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔