ملک بھر میں سونےکی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، سونے کا فی تولہ بھاؤ 4 لاکھ 25 ہزار روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط کا فی تولہ سونا 8ہزار 400 روپے اضافے سے 4لاکھ 25ہزار178 روپے کا ہوگیا۔

اسی طرح 24 قیراط کے 10گرام سونے کی قیمت 7 ہزار 202 روپے اضافےسے3 لاکھ 64 ہزار 521 روپے ہوگئی، عالمی مارکیٹ میں 84 ڈالرکے اضافے سے سونے کی فی اونس قیمت تاریخ میں پہلی بار 4 ہزار ڈالر کی حد عبور کرگئی اور فی اونس سونا 4 ہزار 39 ڈالر فی اونس ہوگیا۔

فی تولہ چاندی 55 روپے کے اضافے سے 4 ہزار 984 روپے پرپہنچ گئی، اسی طرح 10گرام چاندی کی قیمت47 روپے کے اضافےسے 4 ہزار 272روپے ہوگئی، عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت48.

80 ڈالر پر پہنچ گئی۔

خبر رساں ادارے ارائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں نے عالمی معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے خلاف تحفظ کے طور پر سونے میں تاریخی پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، ساتھ ہی امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات نے بھی اس رجحان کو تقویت دی۔

بدھ کو صبح 8 بج کر 20 منٹ جی ایم ٹی تک اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی اونس 4 ہزار 39.10 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.4 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 61.80 ڈالر تک جا پہنچے، چاندی بھی سونے کے رجحان سے مستفید ہوئی اور 2 فیصد اضافے کے ساتھ فی اونس 48.76 ڈالر پر پہنچ گئی، جو اس کی تاریخ کی بلند ترین سطح 49.51 ڈالر سے ذرا نیچے ہے۔

روایتی طور پر سونا عدم استحکام کے ادوار میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے, 2025 کے آغاز سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں تقریباً 54 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ 2024 میں یہ 27 فیصد بڑھا تھا، اس لحاظ سے سونا 2025 کے بہترین کارکردگی دکھانے والے اثاثوں میں شامل ہے، جس نے عالمی حصص بازاروں اور بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جب کہ ڈالر اور تیل کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ تیزی متعدد عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے، جن میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی، سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری، سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری اور کمزور ڈالر شامل ہیں۔

اسٹون ایکس کی تجزیہ کار رونا او کونل نے کہا کہ ’حالات وہی پرانے ہیں، علاقائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور اب اس میں حکومتی شٹ ڈاؤن کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ شٹ ڈاؤن حصص بازاروں کو نہیں روک رہا، تاہم سرمایہ کار خطرے سے بچاؤ کے لیے سونا خرید رہے ہیں‘۔

امریکا میں 8 روز سے جاری سرکاری شٹ ڈاؤن نے اہم معاشی اعداد و شمار کی اشاعت مؤخر کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کو فیڈرل ریزرو کے فیصلوں کے اندازے کے لیے غیر سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

مارکیٹ فیڈ کے آئندہ اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس کی شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے، جب کہ دسمبر میں بھی ایسی ہی ایک اور کمی کا امکان ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے تنازع، یوکرین کی جنگ، اور فرانس و جاپان میں سیاسی ہلچل نے بھی سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔

ڈوئچے بینک کے تجزیہ کار مائیکل شوئے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں پانچ سال بعد پہلی بار سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفس) میں دوبارہ سرمایہ کاری شروع ہوئی ہے، جو اس رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں بھی سونے کی قیمتوں کو مرکزی بینکوں کی خریداری، ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری اور امریکی شرحِ سود میں کمی سے سہارا ملے گا، جس کے باعث گولڈمین ساکس اور یو بی ایس نے اپنی قیمت کی پیشگوئیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

وزڈم ٹری کے کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ نیتیش شاہ نے کہا کہ ’ہم نے توقع کی تھی کہ سونا 4 ہزار ڈالر کی سطح پر سال کے اختتام کے قریب پہنچے گا، مگر موجودہ رجحان ہمارے مجموعی اندازے کے مطابق ہی ہے‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ 2026 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک قیمت 4 ہزار 530 ڈالر فی اونس تک پہنچ جائے گی‘۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ’مواقع کھونے کے خوف‘ نے بھی سرمایہ کاروں کو اس رجحان میں شامل کر رکھا ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوفو نے کہا کہ ’فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کم شرحِ سود کی حامی ہے، جو سونے کی کشش میں اضافہ کر رہی ہے‘۔

سونے کے ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جس میں پلاٹینیم 1.7 فیصد بڑھ کر فی اونس ایک ہزار 646.19 ڈالر اور پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار 393.06 ڈالر پر پہنچ گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈالر پر پہنچ سرمایہ کاری سرمایہ کار تجزیہ کار کے مطابق پہنچ گئی کے ساتھ سونے کی کی قیمت فی اونس فی تولہ کہا کہ

پڑھیں:

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کے پیشِ نظر کرپٹو کرنسیوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا فراہم کیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ادھر ڈالر 160 ین کی سطح کو چھونے کے بعد کچھ پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جاپانی حکام اس سطح پر پہنچنے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی

رسد کے حوالے سے بھی منڈی کو سہارا ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے کم ہوئے ہیں۔

29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔

آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں آسان نہیں

اے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مزید جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔

امریکی اور ایرانی دعوے آمنے سامنے

امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔

سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکا

میلبورن میں بروکریج ادارے پیپر اسٹون کے تحقیقی شعبے کے سربراہ کرس ویسٹن کے مطابق گزشتہ ہفتے تک مالیاتی منڈیوں کو یقین تھا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی یادداشت تک پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال زیادہ غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور سرمایہ کار اپنی سابقہ پوزیشنیں ختم کر رہے ہیں۔

بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

فوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔

دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار

جہاں ایک طرف جنگی خدشات نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا، وہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار رہی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر معاہدوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیا میں اے آئی شعبے کی بدولت حصص کی منڈیوں نے نئی بلندیاں چھو لیں۔

تائیوان اور جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔

مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں غیر معمولی اضافہ

چِپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں 32.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔

اس اضافے کی ایک بڑی وجہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کا بیان تھا، جنہوں نے تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس نمائش کے دوران مارویل ٹیکنالوجی کو ’اگلی ایک ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی‘ قرار دیا۔

اسپیس ایکس کی تاریخی شیئر فروخت کی تیاری

دوسری جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس آئندہ ہفتے ایک بڑی ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی 55 کروڑ 56 لاکھ حصص فی شیئر 135 ڈالر کی متوقع قیمت پر فروخت کر کے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شرح سود میں اضافے کی توقعات

امریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمتوں کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور معیشت کو فوری طور پر شرح سود میں کمی کی ضرورت نہیں۔

اپریل میں امریکا میں نئی ملازمتوں کے مواقع 5 برسوں کی بلند ترین رفتار سے بڑھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کم کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آنے والے روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے تو امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

ادائیگیوں کے ادارے کور پے کے ایشیا پیسیفک کرنسی اسٹریٹجسٹ پیٹر ڈراگیسیوچ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی معیشت کی رفتار بہتر ہونے کے آثار ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کی موجودہ توقعات سے زیادہ مضبوط آ سکتے ہیں۔

عالمی کرنسی منڈیوں کی صورتحال

غیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔ یورو 1.1627 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ امریکی ڈالر 159.86 ین کی سطح پر برقرار رہا۔

ادھر آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مارچ کی سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہی۔ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھی، لیکن درآمدات میں اضافے نے مجموعی نمو پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7177 امریکی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران امریکا جنگ کرپٹو کرنسی

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ