Jasarat News:
2025-11-29@10:47:41 GMT

پی ایم ای ایکس میں 101.225 بلین روپے کے سودے

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) منگل کے روز، پی ایم ای ایکس میں دھاتوں، توانائی، سی او ٹی ایس، اور انڈیکسز کی مجموعی تجارتی مالیت 101.225 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ 90,234 لاٹس کا کاروبار ہوا۔ سب سے زیادہ کاروبار سونے میں ہوا، جس کی مالیت 66.

258 ارب روپے رہی، اس کے بعد چاندی (19.266 ارب روپے)، سی او ٹی ایس (3.776 ارب روپے)، پلاٹینم (4.984 ارب روپے)، نیس ڈیک 100 (3.078 ارب روپے)، کروڈ آئل (1.502 ارب روپے)، ایس پی 500 (809.245 ملین روپے)، تانبہ (904.356 ملین روپے)، ڈی جے (272.691 ملین روپے)، پیلیڈیم (339.977 ملین روپے)، قدرتی گیس (259.591 ملین روپے)، برینٹ (34.323 ملین روپے)، ایلومینیم (15.176 ملین روپے)، اور جاپان ایکوئٹی 225 (13.088 ملین روپے) شامل ہیں۔ زرعی اجناس میں 8 لاٹس کی تجارت ہوئی، جن کی مجموعی مالیت 80.773 ملین روپے رہی، جن میں کپاس (9.922 ملین روپے)، گندم (14.030 ملین روپے)، اور سویا بین (56.821 ملین روپے) شامل ہیں۔ مکئی میں کوئی تجارتی سرگرمی ریکارڈ نہیں کی گئی۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملین روپے ارب روپے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی ایک اورشرط پوری:ایف بی آر افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251128-08-25
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیئرنگ آف ڈیکلیریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز 2023ء میں اہم ترامیم متعارف کرا دی ہیں۔ مذکورہ ترامیم اس سے قبل 7 اکتوبر 2025 ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن 1912(I)/2025 کے تحت شائع کی گئی تھیں جنہیں قانون کے مطابق عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، سب سے اہم ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول استعمال ہوا ہے وہاں پبلک کا لفظ شامل کردیا گیا ہے اور ایک کی ذیلی شق (1) میں بھی یہی تبدیلی منظور کی گئی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے رول 2 میں ایک نئی شق(ii-a) شامل کی گئی ہے جس کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا صوبائی حکومتوں، خود مختار اداروں، سرکاری کارپوریشنز یا حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے ایسے افسران ہوں گے جن کا پے اسکیل 17 یا اس سے اوپر ہو اور اس تعریف میں وہ ملازمین بھی شامل ہوں گے جو سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے تحت آتے ہیں۔اس شق میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 5 کے کلاز (n) کی ذیلی شق (iv) میں استثنا دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو زیادہ جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے تاکہ سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثوں کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح، مؤثر اور شفاف بنایا جاسکے۔

سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں ایک اور بڑی چوری: ریسٹورنٹ کے تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کے گھونگے غائب
  • عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاق کو نوٹس
  • اے این ایف کی بلوچستان میں کارروائی، ایل پی جی گیس کینٹینر سے کروڑوں ڈالر مالیت کی منشیات برآمد
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل: بینک ملازم کے اکاؤنٹ میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف
  • پی آئی اے کے نصف طیارے بند، پھر بھی اربوں کا منافع
  • آئی ایم ایف کی ایک اورشرط پوری:ایف بی آر افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
  • پی ایم ای ایکس میں37.364بلین روپے کے سودے
  • پی آئی اے کے نصف طیارے بند، پھر بھی اربوں کا منافع؛ نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع
  • مرکنٹائل ایکسچینج میں49.954 بلین روپے کے سودے
  • گلگت، کروڑوں مالیت کی اشیا کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، تمام اشیا ضبط