پی ایم ای ایکس میں 101.225 بلین روپے کے سودے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) منگل کے روز، پی ایم ای ایکس میں دھاتوں، توانائی، سی او ٹی ایس، اور انڈیکسز کی مجموعی تجارتی مالیت 101.225 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ 90,234 لاٹس کا کاروبار ہوا۔ سب سے زیادہ کاروبار سونے میں ہوا، جس کی مالیت 66.
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی ایک اورشرط پوری:ایف بی آر افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-08-25
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیئرنگ آف ڈیکلیریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز 2023ء میں اہم ترامیم متعارف کرا دی ہیں۔ مذکورہ ترامیم اس سے قبل 7 اکتوبر 2025 ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن 1912(I)/2025 کے تحت شائع کی گئی تھیں جنہیں قانون کے مطابق عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، سب سے اہم ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول استعمال ہوا ہے وہاں پبلک کا لفظ شامل کردیا گیا ہے اور ایک کی ذیلی شق (1) میں بھی یہی تبدیلی منظور کی گئی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے رول 2 میں ایک نئی شق(ii-a) شامل کی گئی ہے جس کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا صوبائی حکومتوں، خود مختار اداروں، سرکاری کارپوریشنز یا حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے ایسے افسران ہوں گے جن کا پے اسکیل 17 یا اس سے اوپر ہو اور اس تعریف میں وہ ملازمین بھی شامل ہوں گے جو سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے تحت آتے ہیں۔اس شق میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 5 کے کلاز (n) کی ذیلی شق (iv) میں استثنا دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو زیادہ جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے تاکہ سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثوں کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح، مؤثر اور شفاف بنایا جاسکے۔