عثمان بزدار دور کی 200 ملین روپے کی بڑی مالی بے ضابطگی ، سرکاری افسران ملوث قرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
عثمان بزدار دور کی 200 ملین روپے کی بڑی مالی بے ضابطگی ، سرکاری افسران ملوث قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار دور کی بڑی مالی بے ضابطگی میں سرکاری افسران کو ملوث قرار دے دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دور حکومت میں سامنے آنے والی 200 ملین روپے کی مالی بے ضابطگی کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، جس میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ بے ضابطگی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی منڈی بہاؤالدین میں سامنے آئی، جہاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری (PAC-III) کے حکم پر ممبر انکوائری نے معاملے کی مکمل تحقیقات کیں۔
تحقیقاتی رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں اعلیٰ افسران کے خلاف انضباطی کارروائی اور مزید جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحماس کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے ٹونی بلیئر کو غزہ منصوبے کے لیے قبول کرلیا غزہ جنگ بندی کے بعد اٹلی فلسطین کو تسلیم کرنے کے قریب ہے، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا اعلان مذہبی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے باعث مسلسل 6 دنوں بند فیض آباد کو کھولنے کا فیصلہ مرید کے : ٹی ایل پی کا پُر تشدد احتجاج اور حملے، پولیس افسر شہید، 12 اہلکار زخمی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے استعفے اور حلف برداری کا معاملہ، گورنر فیصل کریم کنڈی نے جواب تیار کرلیا مذہبی جماعت کا احتجاج: سعد رضوی سمیت 3500 سے زائد کارکنان کے خلاف دہشتگردی اور قتل کا مقدمہ درج جے یو آئی نے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخاب چیلنج کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مالی بے ضابطگی سرکاری افسران ملوث قرار
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل: بینک ملازم کے اکاؤنٹ میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف
راولپنڈی – احتساب عدالت میں اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل کے کیس کی سماعت کے دوران نجی بینک کے ملازم خالد احمد کے اکاؤنٹ میں 55 ملین روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن سامنے آئی ہے۔
ملزم خالد احمد کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج محمد ظفر نے اسے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ خالد احمد اپر کوہستان سے تعلق رکھتا ہے اور داسو برانچ میں نجی بینک میں ملازم ہے۔ اس نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولا ہوا تھا، جس کے ذریعے مبینہ طور پر مشکوک مالی لین دین کی گئی، اور کیس میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کو متعدد بار طلب کیا گیا، لیکن وہ جان بوجھ کر تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا تھا، جس سے تحقیقات میں تاخیر ہو رہی تھی۔ گزشتہ روز ملزم کو حراست میں لیا گیا اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ اسے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا جائے تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔