گورنرخیبرپختونخوا نومنتخب وزیراعلیٰ سے کل 4 بجے تک حلف لیں، پشاور ہائیکورٹ کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کی حلف برداری میں تاخیر سے متعلق پاکستان تحریکِ انصاف کی آرٹیکل 255 کے تحت دائر آئینی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کل 4 بجے تک حلف لینے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ 4 بجے تک اگر گورنر حلف نہ لیں تو پھر اسپیکر حلف لے لیں۔
فیصلے کے مطابق علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دے دیا تھا، قانون کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جانا ہے، قانون کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لینا ضروری ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون کے مطابق بغیر تاخیر سے نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینا چاہئے، گورنر خیبرپختونخوا اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے حلف لیں۔
فیصلے کے مطابق حلف لینے کا عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیا جائے، 15 اکتوبر تک حلف لے لیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔