کراچی:

سندھ میں مختلف کاروباری اپروولز کے لیے لائسنس اور رجسٹریشن کے حصول کو طویل قطاروں کے جھنجھٹ سے نکال کر انھیں سنگل کلک پر کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے ورلڈ  بینک کی معاشی اصلاحات کو اپناتے ہوئے سرکاری اداروں سے دی جانے والی بزنس اپروولز approvals  Business کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کردیا اور پہلی بار کاروباری اپروولز کا اجراء" ای پرمٹس اور ای لائسنس" کے طور پر کیا جارہا ہے جسے سندھ ایڈوانس بزنس ریگولیشن ریفارم کا نام دیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ سندھ انویسمنٹ ڈپارٹمنٹ کے کلک click پروجیکٹ کے تحت چلایا جارہا یے جس کا مقصد کراچی سمیت پورے صوبے میں سرمایہ کاری کے ماحول میں ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق بہتری لانا اور خدمات  کی فراہمی کو موثر بنانا ہے۔

کلک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل سیکریٹری انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ بہزاد امیر میمن نے اپنے دفتر میں "ایکسپریس" سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ"سرکاری اداروں کے تحت دی جانے والی بزنس اپروولز کی ڈیجیٹلائزیشن (رجسٹریشن و لائسنسنگ) کے عوض ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے، مینول سسٹم کے خاتمے اور ڈیجیٹلائزیشن سے حکومت سندھ کو 3 ماہ سے کم عرصے میں 5 ملین روپے کا ریونیو حاصل ہوچکا ہے، 3 مراحل پر مشتمل یہ منصوبہ ایک سال میں آئندہ برس مئی 2026ء میں مکمل ہونا ہے جس کے تحت سندھ کے 19 سرکاری محکمے اور ان کی ملنے والی ادائیگیاں یا ریونیو ڈیجیٹلایز ہوجائے گا۔

ان کے مطابق پہلے مرحلے میں سندھ کے 9 سرکاری محکموں کے 32 سرٹیفیکیشن اور لائسنسنگ ڈیجیٹلائز کردی گئی ہے، ان محکموں میں محکمہ تعلیم (اسکول و کالج ایجوکیشن)، محکمہ صحت، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، سندھ  فوڈز اتھارٹی، لیبر ایمڈ ہیومن ریسورس، انڈسٹریز اینڈ کامرس، سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی اور سندھ اسمال انڈسٹری کارپوریشن شامل ہیں، ان 9 محکموں یا کارپوریشنز کے تحت ملنے والے 32 مختلف اقسام کے سرٹیفکیٹس کا اجراء اب ڈیجیٹل بنیادوں پر ایک پورٹل کے ذریعے کیا جارہا ہے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے یہ پورا منصوبہ محکمہ انویسٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے جسے "کلک پروجیکٹ" کے تحت چلایا جارہا ہے۔

اس موقع پر موجود  کلک کے پروجیکٹ سینئر آٹومیشن اسپیشلسٹ طاہر علی خان  نے بتایا کہ اب تک محض ڈھائی ماہ میں 9 محکموں سے 1700 سے زائد ای بزنس لائسنس اور ای سرٹیفکیٹ جاری کیے جاچکے ہیں اور اس کے عوض حکومت 5 ملین سے زائد کاریونیو حاصل کرچکی ہے، اب صارف محض ایک پورٹل کے ذریعے  اپنے کاروبار کے لائسنس کے حصول لیے متعلقہ محکمے میں اپلائی کرے گا اور متعلقہ محکمہ تمام مطلوبہ کوائف کے پورا ہونے پر صارف کو دی گئی مدت میں لائسنس جاری کرنے کا پابند ہوگا جبکہ صارف کی معلومات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے "نادرا ای ای سی پی، پی ایم ڈی اور ون لنک" کی integration کردی گئی ہے "۔

واضح رہے کہ جو سرٹیفکیٹ جاری کیے جارہے ہیں ان میں پرائیویٹ اسکول اور پرائیویٹ کالجوں کے اسٹیبلشمنٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، فوڈ بزنس لائسنسنگ، ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ لائسنسنگ، رجسٹریشن آف شاپس اینڈ فیکٹریز، لائسنسنگ ٹو ڈرگ آف ریٹائر سیل، ہول سیل ڈرگ، ڈرگ ان فارمیسی، نارکوٹکس اینڈ کنٹرول ڈرگس ،مینوفیکچر /ایمپورٹر آف ڈرگس، رجسٹریشن آف پارٹنر شپ فرم، ریکٹیفیکیشن آف پارٹنر شپ فرم، رجسٹریشن آف نیو اینڈ اولڈ بوائلر، اپروول آف انوائرمینٹل مینٹل منیجمنٹ پلان و دیگر شامل ہیں جبکہ آئندہ دو مراحل میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی و دیگر محکمے بھی شامل ہونگے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے تحت

پڑھیں:

پی ایس ایل کی نئی فرنچائز کی ریزرو پرائس جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان سپر لیگ کے آنے والے ایڈیشن کے لیے نئی فرنچائزز کی شمولیت کے حوالے سے سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور اس سلسلے میں ملک اور بیرونِ ملک متعدد سرمایہ کار گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ نئی فرنچائز کی ریزرو پرائس سوا ارب روپے سے زائد مقرر کیے جانے کی توقع ہے، جو پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی تجارتی قدر اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مقبولیت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

ابتدائی ٹینڈرز جاری ہونے کے بعد مختلف کاروباری حلقوں نے اپنی بڈنگ کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں league administration کو بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر سے جو کمپنیاں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں، ان میں دو بڑے شعبے رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی نمایاں ہیں، جو گزشتہ کئی برسوں سے ملکی کرکٹ کی سرپرستی بھی کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کئی اور معروف کاروباری گروپس نے بھی فرنچائز خریدنے کے ارادے سے رابطے کیے ہیں۔

اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال خاصی دلچسپ ہے، کیونکہ امریکا سے تعلق رکھنے والی 2 کاروباری شخصیات نئی ٹیم خریدنے کی خواہش مند ہیں جب کہ برطانیہ اور ایک دیگر یورپی ملک سے بھی سرمایہ کار بڈنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان سپر لیگ کی بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی کی تازہ ترین مثال قرار دی جا رہی ہے۔

پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ ٹیکنیکل پروپوزلز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔ صرف وہ بولی دہندگان جو اس مرحلے میں کامیاب ہوں گے، اگلے راؤنڈ میں حصہ لے سکیں گے، جس کے بعد حتمی فیصلے جنوری میں کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اگر مقابلہ سخت ہوا تو ریزرو پرائس کے مقابلے میں بڈز اس سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں، جیسا کہ پی ایس ایل کے گزشتہ سیزنز میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش ایڈوائزری کونسل کا اجلاس، این جی اوز کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا فیصلہ
  • ای چالان ادا نہ کرنے والوں کی شامت  
  • نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں ، دوسرے سے نکال دیں، وزیراعلیٰ سندھ
  • پیدائش، اموات، نکاح، طلاق کی رجسٹریشن آن لائن ہو گی، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے افتتاح کر دیا
  • حکومت پنجاب نے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا
  • پنجاب میں اساتذہ کو تدریس کیلئے لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ایل کی نئی فرنچائز کی ریزرو پرائس جان کر آپ حیران رہ جائیں گے
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • والدین وطلبا کیلئے اہم خبر؟ یکم دسمبر سے اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان
  • یکم دسمبر سے اسکول صبح کتنے بجے کھلیں گے