اسرائیل غزہ میں امداد داخل ہونے سے روک رہا ہے: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ میں امداد داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی ’انرا‘ نےکہا ہے کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لائی جانے والی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، ایجنسی نے مطالبہ کیا کہ امداد پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
بیان میں کہنا تھا یو این آر ڈبلیو اے کی امداد، خوراک، صفائی کی کٹس، ادویات اور عارضی خیموں کے لیے ضروری سامان غزہ کے باہر گوداموں میں موجود ہے، جنہیں اسرائیلی ریاست نے اندر آنے سے روک رکھا ہے۔
ادارے نے کہا کہ ہمارے پاس مصر اور اردن میں غزہ کی پوری آبادی کے لیے 3 ماہ کی خوراک موجود ہے، جو منتقلی کی اجازت کی منتظر ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے مزید کہا کہ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا، ہمیں فوری اجازت کی ضرورت ہے تاکہ یو این آر ڈبلیو اے کی امدادی اشیا غزہ لانا شروع کی جائیں اور ہماری ٹیمیں انہیں ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں، یو این آر ڈبلیو اے کی امداد پر پابندی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو این ا ر ڈبلیو اے نے سے روک کے لیے
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔