Jasarat News:
2026-07-24@08:05:33 GMT

بھینس چوری سے سیاست کی سزا تک

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-03-5

 

عطامحمد تبسم

ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں چودھری ظہور الٰہی پر ’’بھینس چوری‘‘ کا مقدمہ بہت مشہور ہوا۔ ظہور الٰہی متحدہ اپوزیشن میں سر گرم تھے اور بھٹو صاحب کو یہ پسند نہ تھا۔ پنجاب پولیس نے ظہور الٰہی پر 100 سے زائد مقدمات قائم کیے، جیسے آج کل تحریک انصاف کے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ عدالتیں اس زمانے میں بھی تھیں، اور چودھری صاحب کو کہیں نہ کہیں ضمانت مل جاتی تھی۔ گجرات کے تھانے دار کے ایک تھانے دار نے تو کمال کردیا۔ چودھری صاحب کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ درج کردیا اور چودھری صاحب کے ڈیرے پر بندھی ایک بھینس کو مال مسروقہ قرار دے کر قبضہ میں لے لیا۔ اس وقت عدالت میں چودھری صاحب نے طنزاً کہا تھا ’’میں سیاست میں آیا ہوں، بھینسوں کے باڑے میں نہیں‘‘ مقدمہ خارج ہو گیا، مگر یہ واقعہ آج بھی اس پنجاب پولیس کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ 90 کی دہائی میں شیخ رشید کسی طور پر قابو نہ آئے تو پیپلز پارٹی حکومت شیخ رشید کے خلاف کلاشنکوف لہرانے کا مقدمہ کا درج کیا، شیخ رشید تو اس کو کھلونا کلاشنکوف کہتے تھے، لیکن پولیس نے ان کے گھر سے اصلی کلاشنکوف کی برآمدگی دکھا دی اور انسداد دہشت گردی کے عدالت نے انہیں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔ میاں نواز شریف مشرف کے طیارے کے ہائی جیکنگ کیس میں سزائے موت پانے کے بعد مرتے مرتے بچے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی مقدمات درج کیے گئے۔ جنہیں سن کر قانون بھی مسکرا اْٹھتا ہے۔ ہمارا وزیر رانا ثنا اللہ پر تو منشیات فروشی کا پرچہ کٹ گیا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ پر سرکاری مکان پر قبضے کا الزام، بینظیر بھٹو پر جعلی کارڈ اور گاڑی کا کیس، آصف زرداری پر موٹر سائیکل اور ہار چوری کا مقدمہ، اور عمران خان پر ’’ریڑھی سے ٹکرانے‘‘ اور ’’لاوڈ اسپیکر استعمال کرنے‘‘ جیسے الزامات — یہ سب واقعات محض قانونی کارروائیاں نہیں تھے، پولیس کو وقت کے حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ عدالتیں بعد میں ان مقدمات کو جھوٹا قرار دیتی ہیں، مگر عوام کے ذہن میں پولیس کی ساکھ پر لگے سیاہ داغ باقی رہ جاتے ہیں۔ مریدکے میں ہونے والے خونیں واقعات میں زیادتی دونوں طرف سے ہوئی، پولیس انتظامیہ اور کرین پارٹی والوں کے تشدد کی ویڈیو ہولناک ہیں، لال مسجد کے خونیں واقعات، ماڈل ٹاون کا سانحہ، نو مئی کے واقعات، اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کو کچلنے کا واقعہ اس بات کا اظہار ہیں کہ اب سیاست میں پرامن احتجاج ایک خواب و خیال ہے۔ ہمارے نوجوانوں، اور سادہ لوح دینی حمیت و غیرت پر سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننے والے کارکنوں کو اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ پرانے رویوں کی نئی شکل حالیہ دنوں میں مریدکے کا واقعہ اسی پرانی روایت کا نیا باب لگتا ہے۔

تحریک لبیک کے مارچ کے دوران پیش آنے والے تصادم کے بعد پنجاب پولیس نے سعد رضوی پر الزام لگایا کہ انہوں نے پولیس اہلکار پر پستول سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا زخمی ہوئے اور بعد ازاں جان سے گئے۔ اسی ایف آئی آر میں ان کے بھائی انس رضوی، پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے ’’رائفل سے فائرنگ‘‘ کی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحریک لبیک کے اجتماعات ہمیشہ کیمروں، سوشل میڈیا اور ویڈیوز کی زد میں ہوتے ہیں۔ کبھی کسی ویڈیو، تصویر یا رپورٹ میں ان رہنماؤں کے ہاتھوں میں اسلحہ دکھائی نہیں دیا۔ نہ کبھی ان پر کسی ایسے عمل کا الزام لگا جس میں ہتھیار استعمال ہوا ہو۔ اس کے لیے ان کے جان نثار کم نہیں ہیں۔

یہ مقدمہ ایک بار پھر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پنجاب پولیس نے ایک بار پھر حسب ِ روایت سیاسی دباؤ میں کام کیا ہے؟ عوام کے لیے پنجاب پولیس کے رویے کو سمجھنا مشکل نہیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جو دہائیوں سے ’’حکم‘‘ کے تابع ہے، ’’قانون‘‘ کے نہیں۔ یہ ذہنیت اب اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ ہر واقعہ کے بعد سب سے پہلا ردعمل یہی ہوتا ہے: ’’ایف آئی آر بنا دو‘‘ چاہے وہ بھینس چوری کا الزام ہو یا پستول کی فائرنگ کا۔ ایسے مقدمات نہ صرف انصاف کے نظام کو مذاق بناتے ہیں بلکہ معاشرتی اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ قانون طاقت کے تابع ہے، تو وہ انصاف کے دروازے پر دستک دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ پولیس اصلاحات نہیں، نیت درکار ہے۔ پاکستان میں پولیس ریفارمز پر کئی کمیشن بنے، سفارشات آئیں، رپورٹس تیار ہوئیں مگر جب تک سیاسی قوتیں خود قانون کے تابع نہیں ہوتیں، پولیس کبھی غیر جانب دار نہیں بن سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جھوٹے مقدمات کے ذمے دارافسران اور حکم دینے والے اہلکاروں کو قانونی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسے واقعات پر ’’محکمانہ کارروائی‘‘ نہیں، بلکہ عدالتی مثالیں قائم کی جائیں، تاکہ آئندہ کوئی افسر سیاسی حکم پر قانون کی توہین نہ کرے۔ چودھری ظہور الٰہی سے لے کر سعد رضوی تک پاکستان کی سیاست میں پولیس کا کردار ہمیشہ سوالیہ ہی رہے گا۔ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ یا دانستہ مذاکرات سے گریز کرکے آہنی ہاتھ سے کچلنے کا فیصلہ پہلے ہی سے طے تھا۔ ان واقعات سے پتا چلتا ہے کہ پنجاب پولیس کی ذہنیت نہیں بدلی۔ یہ اب بھی طاقت کے سامنے سر جھکاتی ہے، اور کمزور کے خلاف بہادری دکھاتی ہے۔ جب تک ریاست یہ تسلیم نہیں کرتی کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر قائم ہونا چاہیے، تب تک ایسے مضحکہ خیز مقدمات ہماری تاریخ کا حصہ بنتے رہیں گے۔ اور ہر نیا واقعہ، پرانی شرمندگی کا تسلسل ثابت ہوگا۔

عطامحمد تبسم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پنجاب پولیس چودھری صاحب بھینس چوری ظہور ال ہی کا مقدمہ پولیس نے انصاف کے نے والے کے خلاف

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.

(جاری ہے)

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے.

ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا.

شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے. 

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار