محسن نقوی کا نوٹس، افغان فٹبال ٹیم کو ویزے جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
ویبب ڈیسک :چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نوٹس لینے کے بعد افغانستان فٹبال ٹیم کو ویزے جاری کردیئے گئے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے افغانستان کی ٹیم کو ویزے جاری نہ کیے جانے کے معاملے کا آج ہی نوٹس لیا تھا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر محسن نقوی نے بتایا کہ افغانستان کی ٹیم کو ویزے جاری کردیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان فٹبال میچ 9 اکتوبر کو شیڈولڈ تھا ،تاہم 7 اکتوبر کی شام تک افغانستان فٹبال ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہیں ہوئے تھے۔
پاکستان میں8 اکتوبر کو آنیوالے تباہ کن زلزلے کو 20 برس بیت گئے، خوفناک یادیں آج بھی ذہنوں پر نقش
گزشتہ روز افغانستان فٹبال ٹیم کے 10 آفیشلز اور 3 فٹبالرز کو ویزے جاری ہوئے تھے، انہیں کابل میں سفارتخانے میں بائیو میٹرک کرانے کے بعد ویزے جاری کیے گئے،تاہم افغانستان فٹبال ٹیم کے اکثر پلیئرز افغانستان سے باہر مقیم ہیں اور ان کو ویزے جاری نہیں ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغانستان فٹبال ٹیم ٹیم کو ویزے جاری محسن نقوی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔