خیبرپختونخو ا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پشاور ہائی کورٹ سے ریلیف نہ مل سکا۔ عدالت نے حلف برداری کے لیے کی کسی کو نامزد کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کل تک گورنر خیبرپختونخوا کی رائے مانگ لی۔پیر کو پشاور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ کی فوری حلف برداری کے لیے درخواست دائر کی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد سہیل آفریدی سے بطور وزیر اعلیٰ حلف لینے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرام راجہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پشاور ہائی کورٹ سے آج ہی حلف لینے کی درخواست کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ 5 گھنٹوں سے خیبرپختونخوا میں کوئی حکومت نہیں ہے۔ عدالت آج یا جب مناسب سمجھے حلف لینے کے لیے کسی کو نامزد کر دیں۔ جب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے استعفی دیا ہے تو کابینہ خود بخود تحلیل ہو چکی ہے۔جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ گورنر سیکرٹریٹ سے کنفرم کرلیں کہ کیا علی امین گنڈاپور کا استعفی موصول ہوا ہے اور اسپیکر نے حلف کے لیے گورنر کو جو سمری بھیجی کیا وہ اس کو پہنچ چکی ہے، اس کی کوئی رسید ہے۔چیف جسٹس کے استفسار پر سلمان اکرام نے کہا کہ اسپیکر خود بھی یہاں پر موجود ہیں اور حلف کے لیے سمری بھیجی جا چکی ہے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی سے پوچھا کہ اپ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں.

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئین اس پر کلیئر ہے کہ جب گورنر حلف لینے سے انکار کریں تو پھر آرٹیکل 255 نافذ ہوگا تاہم اسپیکر نے سمری بھیجی ہے یہ سمری گورنر تک پہنچی ہے یا نہیں یہ بھی ابھی کلیئر نہیں ہے۔اس پر چیف جسٹس ایس ایم عتیق نے کہا کہ گورنر کی رائے ضروری ہے۔ گورنر کی رائے آجائے تو پھر اس پر ہم کچھ کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے مخصوص نشستوں پر ممبران اسمبلی کے حلف پر بھی میرے خلاف کیس ہوچکا ہے۔سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ ممبران اسمبلی اور وزیراعلی کے حلف میں فرق ہوتا ہے لیکن چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے جواب دیا کہ وہ رئیسائی صاحب کی بات، حلف حلف ہوتا ہے وہ وزیراعلی کا ہو یا ممبران اسمبلی کا۔جس کے بعد حلف برداری کے لئے کسی کو نامزد کرنے کے لیے درخواست پر سماعت عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے۔وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار تھے جب کہ سہیل آفریدی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مقابلے میں جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلزپارٹی کے ارباب زرک اور ن لیگ کے سردار شاہجہاں میدان میں تھے۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے نو متتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کامیابی کی سمری گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو کو بھیج دی، جس میں گورنر کو وزیراعلیٰ کے انتخابی طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔اس پر گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ اب کیس عدالت میں ہے، عدالت ہی فیصلہ کرے گی۔سمری کے متن میں بتایا گیا ہے کہ نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیا جائے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگیا ہے، نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 90 ووٹ حاصل کیے جب کہ دیگر 3 امیدواروں نے کوئی ووٹ بھی حاصل نہیں کیا، نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے آئین اور قانون کے مطابق حلف لیا جائے۔سہیل آفریدی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے چوتھے وزیراعلیٰ ہیں، ان سے قبل پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔پیر کو نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی ۔ اجلاس کے آغاز میں علی امین گنڈاپور نے ایوان سے خطاب کیا جب کہ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے موقع پر آج کا اجلاس شدید ہنگامہ خیزی کا شکار رہا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، ارکانِ اسمبلی اور حزبِ اختلاف کے درمیان گرماگرمی دیکھی گئی۔علی امین گنڈاپور نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل کا مذاق نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سہیل آفریدی کو ایڈوانس میں مبارکباد دیتا ہوں، وہ وزیراعلیٰ ہوں گے، انہیں ہر طرح کی حمایت حاصل ہوگی۔‘گنڈاپور نے کہا کہ ’فسطائیت کے خلاف جو جنگ ہم نے لڑی، اس میں ہم سرخرو ہوئے، 18 ماہ میں جو کچھ کیا وہ ریکارڈ پر ہے، 280 ارب روپے خزانے میں پڑا ہے۔ میری کارکردگی سب کے سامنے ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، ہماری جدوجہد پاکستان کے لیے جاری رہے گی۔

دوسری جانب، اسمبلی میں ڈاکٹر عباداللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آئین میں استعفیٰ منظور کرنے کا ایک واضح طریقہ کار ہے، آج مجھے گورنر ہاؤس سے خط موصول ہوا ہے جس میں واضح کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور دو بار استعفا دے چکے ہیں۔‘ڈاکٹر عباداللہ کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے ارکان کی نعرے بازی شروع ہوگئی، جس پر اسپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگ کون ہوتے ہیں کسی رکن کو بولنے سے روکنے والے؟ مجبور نہ کریں کہ آپ سب کو ایوان سے باہر نکال دوں۔اس کے بعد ڈاکٹر عباداللہ نے مزید کہا کہ ؛’علی امین گنڈاپور اگر اتنی اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے تو انہیں کیوں ہٹایا گیا؟ ایک حکومت کے ہوتے ہوئے دوسری وزارتِ اعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی ہے، ہم اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا استعفا اعتراض لگا کر واپس کردیا ہے۔ گورنر کی جانب سے جاری خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علی امین گنڈا پور کے نام سے جمع کرائے گئے دونوں استعفوں پر دستخط مختلف اور غیرمشابہ ہیں. اس لیے ان کی تصدیق ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے گورنر نے علی امین گنڈا پور کو 15 اکتوبر دوپہر تین بجے گورنر ہاؤس طلب کیا ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں آئینی اور جمہوری عمل کو شفاف رکھنے کے لیے استعفے کی باقاعدہ تصدیق ناگزیر ہے۔تاہم علی امین گنڈا پور نے سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ دونوں استعفوں پر ان کے مستند دستخط موجود ہیں۔ان کے مطابق آٹھ اور گیارہ اکتوبر کو استعفے اپنے دستخطوں کے ساتھ جمع کرائے تھے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے استعفے کو پہلے تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا مگر اب اسی کو مان لیا گیا ہے۔انہوں نے گورنر کی پوسٹ پر جواب دیتے ہوئے دونوں استعفوں کی کاپیاں بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔اپوزیشن جماعتوں نے نومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ کل ہی علی امین گنڈاپور کے استعفے اور سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کریں گے، اپوزیشن عدالت کے ذریعے سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دیں گے۔ گورنر فیصل کنڈی کے طرز عمل کو آئینی ثابت کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کررہے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں نے علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے حق کو بھی آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔ادھر پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی سمیت چار امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں۔پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے پارٹی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کی اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں تعاون کی درخواست کی۔

بعد ازاں پی ٹی آئی وفد نے باچا خان مرکز میں اے این پی قیادت سے بھی رابطہ کیا۔ اے این پی رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی غیر آئینی یا غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔اسلام آباد میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے دوران پی ٹی آئی وفد نے مؤقف اپنایا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوری روایات کی پاسداری کی ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے یقین دہانی کرائی کہ علی امین گنڈا پور کے استعفے کی منظوری آئین و قانون کے مطابق کی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا اسمبلی گورنر خیبرپختونخوا نومنتخب وزیراعلی علی امین گنڈا پور علی امین گنڈاپور بابر سلیم سواتی ایڈیشنل اٹارنی فیصل کریم کنڈی حلف برداری کے کے انتخاب کے سہیل آفریدی کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ پی ٹی آئی حلف لینے ایوان سے گورنر کی چیف جسٹس کا کہنا پور کے پور نے کیا کہ گیا ہے کے لیے عمل کا آئی کے

پڑھیں:

گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا