ایسا کونسا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکوں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، سہیل آفریدی - فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، ایسا کونسا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکوں؟
سہیل آفریدی نے گزشتہ شب دھرنا ختم کرنے پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود مجھے اور نہ دیگر رہنماوں کو بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے دیا گیا، اس سے پہلےجو لندن بھاگ جاتے تھے اِن کو 50، 50 لوگ ملتے تھے۔
سربراہ تحریکِ تحفظِ آئین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنی ہے تو عوامی طاقت سے ایوان کی کارروائی روک دیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ کل پورا دن، پوری رات اور اب صبح ہو گئی مجھے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے، چیف جسٹس کو بتائیں گے آپ کے 3 ججز نے باقاعدہ آرڈر دیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں اپنے احکامات پر عملدر آمد نہیں کرواتیں تو پھر ملک میں جنگل کا قانون ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سے ملاقات
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔