اسرائیل کو کھیلوں کی عالمی عدالت میں منہ کی کھانی پڑی؛ جمناسٹکس مقابلوں سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (CAS) کے ایک فیصلے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت کے اثرات اب کھیلوں کی دنیا تک پھیل گئے ہیں۔
انڈونیشیا نے غزہ جارحیت پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے ملک میں ہونے والی ورلڈ جمناسٹکس چیمپئن شپ میں شرکت سے اسرائیلی کھلاڑیوں کو روک دیا تھا۔
انڈونیشیا نے واضح اعلان کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی طور اسرائیلی کھلاڑیوں کو خوش آمدید نہیں کہہ سکتے۔
انڈونیشی حکومت کا مؤقف ہے کہ کھیلوں کے نام پر ایسے ملک کو پلیٹ فارم نہیں دیا جا سکتا جو انسانیت سوز اقدامات میں ملوث ہو۔
انڈونیشیا نے جب اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہیں کئے تو اسرائیل نے کھیلوں کی عالی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
یہ خبر بھی پڑھیں : غزہ میں جارحیت پر احتجاج؛ انڈونیشیا کا اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار
اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یا تو انڈونیشیا کو ویزے جاری کرنے کا حکم دیا جائے یا پھر جمناسٹکس چیمپئن شپ کو کسی اور ملک منتقل کردیا جائے۔
تاہم کھیلوں کی ثالثی عدالت نے اسرائیلی جمناسٹک فیڈریشن کی درخواستیں مسترد کر دیں جن میں ٹیم کی شرکت کی ضمانت یا ایونٹ کی تنسیخ و منتقلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کھیلوں کی اعلیٰ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ بین الاقوامی فیڈریشنز کے پاس کسی خودمختار ملک پر ویزے جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا اختیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ انڈونیشیا میں 19 سے 25 اکتوبر تک ہونے والی جمناسٹکس چیمپئن شپ میں 79 ممالک کے 500 سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل کو انڈونیشیا میں کھیلوں کے میدان میں روکا گیا ہو۔ 2023 میں بھی انڈونیشیا نے ANOC بیچ گیمز کی میزبانی اسرائیلی شرکت پر تنازع کے باعث چھوڑ دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انڈونیشیا نے کھیلوں کی
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز