انسدادِ دہشتگردی عدالت کا بڑا حکم: علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ۔
عدالت نے یہ حکم 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس کے سلسلے میں جاری کیا ہے۔ کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی۔ عدالت نے علیمہ خان کی بار بار عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں گرفتار کر کے کل 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ آج کی سماعت میں علیمہ خان پر فردِ جرم عائد کی جانی تھی، مگر وہ پیش نہ ہوئیں۔ ان کے وکیل کی جانب سے حاضری معافی کی درخواست دی گئی، جو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بار بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونا عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے پولیس کو فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی۔
ذرائع کے مطابق عدالت کے احکامات موصول ہونے کے بعد پولیس ٹیم وارنٹ کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچے گی، جہاں علیمہ خان توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے لیے موجود ہوں گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد گرفتاری یا وارنٹ کی تعمیل ممکنہ طور پر جیل ہی میں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ صادق آباد تھانے میں یہ مقدمہ 26 نومبر کے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف بھی عدالتوں میں کارروائی جاری ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عدالت نے یوٹیوبر ‘ڈکی بھائی کی رہائی کا پروانہ جاری کر دیا
لاہور کی ضلع کچہری نے یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ‘ڈکی بھائی کی رہائی کے لیے پروانہ جاری کر دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم بھٹو نے رہائی کے حکم نامے میں ہدایت کی کہ اگر ڈکی بھائی کسی اور مقدمے میں مطلوب یا ملوث نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کو بھی باضابطہ روبکار ارسال کر دی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ پیر کو جوئے کی ایپلیکیشنز کی پروموشن سے متعلق کیس میں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے بعد ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔
اسماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس نوعیت کے کیسز میں ضمانت نہ ہونا غیر معمولی بات ہے۔