گورنر کے پی نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے بدھ کو حلف لیں: پشاور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
—فائل فوٹوز
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے حلف کے حوالے سے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر خیبر پختون خوا نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے بدھ کے دن 4 بجے حلف لیں۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر گورنر نے حلف نہیں لیا تو اسی دن اسپیکر نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لیں۔
یہ بھی پڑھیے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ محمد سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخباس سے قبل آج پشاور ہائی کورٹ نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ گورنر نے رضامندی ظاہر کی ہے حلف برداری کے لیے یا نہیں؟
9 صفحات پر مشتمل فیصلہچیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر کے پی نئے وزیرِ اعلیٰ سے بدھ کی شام 4 بجے تک حلف لیں، گورنر حلف نہیں لیتے تو پھر اسپیکر کے پی اسمبلی حلف لیں۔
فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 255 (2) چیف جسٹس کو اختیار دیتا ہے کہ وہ حلف کے لیے کسی کو بھی نامزد کر سکتے ہیں، یہ احکامات صوبے میں آئینی خلاء پُر کرنے، آئین کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے جاری کیے گئے ہیں، نو منتخب وزیرِاعلیٰ کی حلف برداری میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل، گورنر کے وکیل نے بتایا ہے کہ گورنر کراچی میں ہیں، عدالت کو بتایا گیا ہے کہ گورنر کل 2 بجے واپس پہنچیں گے۔
چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو گورنر نے استعفے کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا، انہوں نے 13 اکتوبر کو اسمبلی فلور پر اپنے استعفے کی تصدیق کی، علی امین گنڈاپور کی اسمبلی فلور پر تقریر کا ٹرانسکرپٹ عدالت میں جمع کرایا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 130(5) کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ خالی ہے، قانون کے مطابق نو منتخب وزیرِاعلیٰ کے لیے منصب سنبھالنے سے پہلے حلف لینا لازمی ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ ہے کہ گورنر فیصلے میں گیا ہے کہ چیف جسٹس حلف لیں میں کہا کے لیے
پڑھیں:
پشاور ہائیکورٹ کا ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹر نگ ڈ یسک) پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم جاری کردیا اور قرار دیا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنے کی بھی ضروت ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے شہری ثاقب الرحمان کی جانب سے ٹک ٹاک لائیو سیشنز میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی مواد اور پشتو زبان میں نازیبا حرکات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت کام کرنے والے اداروں کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ عدالت نے رٹ پٹیشن نمٹا دی۔