پی ٹی آئی کا نو منتخب وزیر اعلیٰ کے پی کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی حلف برداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم رات سے ہی پشاور میں موجود ہے، بیرسٹر علی ظفر، نعیم حیدر پنجھوتا اور دیگر رہنما پشاور میں موجود ہیں نئے وزیر اعلی کا آج ہی پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا امکان ہے جب کہ تحریک انصاف کے صوبائی صدر وکلا کے ہمراہ پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔
ذرائع نے کہا کہ نو منتخب وزیر اعلی چیف جسٹس کو خط لکھیں گے، وہ ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے خط چیف جسٹس کو ارسال کریں گے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی حلف لینے کا حکم دے سکتا ہے۔
اس حوالے سے ایکسپریس نیوز نے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہماری لیگل ٹیم حلف کے حوالے سے پیٹیشن تیار کررہی ہے، گورنر کے پی اگر حلف لینے سے منع کرتے ہیں تو فوری طور پر پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر گورنر منع کریں گے تو چیف جسٹس سے حلف لینے کی درخواست کریں گے، ہم پیٹیشن تیار کر رہے ہیں اگر حلف لینے سے منع کیا جاتا ہے تو فورا پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے، ہم امید کرتے ہیں کہ گورنر کے پی کے فیصل کریم آئینی ذمہ داری نبھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی چیف جسٹس حلف لینے کریں گے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔