مودی کے ٹرمپ کیساتھ دوستانہ تعلقات کے باوجود امریکی صدر ہندوستان کو کیا پیغام دے رہے ہیں، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
جے رام رمیش نے کہا کہ ٹرمپ نے شہباز شریف اور عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر اہمیت دی۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف پر حکومت پر شدید تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے باوجود امریکی صدر ہندوستان کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ کانگریس نے ٹرمپ کی جانب سے عاصم منیر کی تعریف اور ان کی سابقہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیسی دوستی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی صدر ٹرمپ کو اپنا اچھا دوست کہتے ہیں اور امریکی صدر بھی مودی کو دوست بتاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دوستی کس حد تک معنی خیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے 18 جون 2025ء کو وائٹ ہاؤس میں عاصم منیر کے اعزاز میں خصوصی ضیافت کی میزبانی کی، جبکہ عاصم منیر کے اشتعال انگیز اور مذہبی طور پر متنازع بیانات نے 22 اپریل 2025ء کو پاکستان کی جانب سے پہلگام میں کئے گئے دہشت گردانہ حملوں کے لئے ماحول پیدا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے 26 ستمبر 2025ء کو وائٹ ہاؤس میں عاصم منیر سے دوسری ملاقات کی، جب جنرل منیر نے انہیں نادر مٹی کے عناصر سے بھرا ہوا تحفہ دیا۔ جے رام رمیش نے سوال کیا کہ مودی کی امریکی صدر کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کی کوششوں کے باوجود، ٹرمپ ہندوستان کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر اہمیت دی۔ غزہ میں جنگ بندی کے بعد منعقدہ عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں ٹرمپ نے عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے ہندوستان اور مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے اور اس کے اعلیٰ عہدے پر میرے اچھے دوست فائز ہیں۔
ٹرمپ نے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر بہت اچھے تعلقات قائم رکھیں گے اور ہنستے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کی جانب اشارہ کیا۔ شہباز شریف نے بھی صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاکھوں جانیں بچانے کے لئے انہیں پھر سے نوبل امن انعام کے لئے نامزد کرنا چاہیں گے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ سمیت 8 تنازعات کو حل کرنے میں مدد کی اور یہ کام نوبل کے لئے نہیں کیا۔ ہندوستان نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان کے براہ راست مذاکرات کے بعد ہوا تھا۔ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد 7 مئی کو ہندوستان نے "آپریشن سندور" شروع کیا.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عاصم منیر کی تعریف ہندوستان اور پاکستان کے امریکی صدر کی جانب ٹرمپ کی کے بعد کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔