’امریکی صدر تو شہباز شریف اور عاصم منیر کے دیوانے ہوچکے ہیں، ایسا کیا جادو کیا ہے؟‘
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
صدر ٹرمپ نے تقریب کے دوران کہا کہ ’پاکستان سے میرے فیورٹ فیلڈ مارشل یہاں نہیں آسکے، مگر وزیراعظم یہاں موجود ہیں۔‘ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خصوصی خطاب کی دعوت بھی دی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
عاطف رؤف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ شہبازشریف صاحب کی تقریر کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا شہبازشریف صاحب کی تقریر بعد میرے پاس الفاظ ہی نہیں او گھر چلیں، یہ کمال کی سفارتکاری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
شہبازشریف صاحب کی تقریر کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا شہبازشریف صاحب کی تقریر بعد میرے پاس الفاظ ہی نہیں او گھر چلیں ????
کمال کی سفارتکاری ہے ????????
پاکستان ہمیشہ زندباد
pic.
— Atif Rauf (@Atifrauf79) October 13, 2025
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’غزہ امن منصوبے‘ کی دستخطی تقریب کے دوران، جہاں دنیا بھر کے رہنما موجود تھے، وزیرِاعظم شہباز شریف کو خصوصی طور پر خطاب کی دعوت دی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے مبارکباد کا پیغام بھی دیا۔
U.S. President Donald Trump, in the presence of world leaders at the signing ceremony of the “Gaza Peace Plan,” extended a special invitation to Prime Minister Shehbaz Sharif to address the event. The U.S. President also conveyed a congratulatory message for Field Marshal Syed… pic.twitter.com/MPNR2QCeQl
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 13, 2025
اشوک نامی بھارتی صارف نے اپنے ہی ملک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ غزہ امن سربراہی اجلاس میں 25 ممالک کے رہنما موجود تھے لیکن ٹرمپ نے صرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خطاب کی دعوت کیوں دی؟ ذرا سوچیں، اگر وہاں شہباز شریف کے بجائے مودی ہوتے، تو بھارتی میڈیا آج تک پاکستان پر پانچ بار ’قبضہ‘ جما چکا ہوتا۔
Leaders of 25 Countries were present at the Gaza peace summit in Sharm-El-Sheikh. Why trump asked only Pakistan's PM Shehbaz Sharif to speak at the event? Imagine, if it was not Sharif but Modi, Indian media would have already occupied Pakistan 5 times today.
— Ashok Swain (@ashoswai) October 13, 2025
نصر اللہ ملک نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایکشن میں۔ پاکستان کے واری واری جا رہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایکشن میں۔ پاکستان کے واری واری جا رہے ???????? pic.twitter.com/irCWsjdy4w
— Nasrullah Malik (@NasrullahMalik1) October 13, 2025
خرم اقبال لکھتے ہیں کہ ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مکمل دیوانے ہو چکے ہیں، کمال ہے ویسے، ایسا کیا جادو کیا ہے۔
ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مکمل دیوانے ہو چکے ہیں، کمال ہے ویسے، ایسا کیا جادو کیا ہے۔۔!! pic.twitter.com/DeFP5hlgTb
— Khurram Iqbal (@khurram143) October 13, 2025
واضح رہے کہ خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بار پھر نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت نے پہلے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکا، اور اب ان کی قابلِ تعریف ٹیم کے ساتھ مل کر غزہ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی گئی ہے‘۔
تقریب میں مختلف عالمی رہنماؤں، سفارتی نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اراکین نے شرکت کی۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈونلڈ ترمپ شہباز شریف عاصم منیر غزہ غزہ امن معاہدہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ترمپ شہباز شریف غزہ امن معاہدہ شہبازشریف صاحب کی تقریر وزیراعظم شہباز شریف شہباز شریف اور عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔