شرم الشیخ(ڈیلی پاکستان آن لائن)مصر میں غزہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  ملاقات ہوئی ہے جس میں ٹرمپ نے وزیر اعظم کے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور دونوں رہنماؤں میں خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہ اجلاس میں  28 ممالک اور بین الاقوامی ادارے شرکت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔ 

پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 71واں اجلاس،متعدداہم اقدامات کی منظوری

ٹرمپ نے شرم الشیخ میں دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس سے پہلے شرم الشیخ کے کانگریس سینٹر پہنچنے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ امن کانفرنس سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف ، آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان ، اردن کے شاہ عبداللہ دوم،بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ،انڈونیشیا کے صدر ،جرمن چانسلر،،اسپین کے وزیراعظم ،اٹلی کی وزیراعظم ،سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے ملاقاتیں کیں۔

افغان اشتعال انگیزی کے مؤثر جواب پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

 وزیراعظم نے فلسطینی عوام سے یکجہتی اوران کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔واضح رہے کہ غزہ امن سربراہ  اجلاس کا مقصد غزہ میں فوری جنگ بندی اور امن کے لیے عالمی کوششیں ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: امن سربراہ اجلاس غزہ امن سربراہ شرم الشیخ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری