UrduPoint:
2026-06-03@05:01:00 GMT

شرم الشیخ: ٹرمپ کی بات پر شہباز شریف مسکرا دیے

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

شرم الشیخ: ٹرمپ کی بات پر شہباز شریف مسکرا دیے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 اکتوبر 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کے شرم الشیخ میں پیر کے روز، غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران اس امن پیش رفت کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل آصف منیر کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن ''اچھے دوستوں کے اچھے اقدامات‘‘ پر منحصر ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا، ''بھارت ایک عظیم ملک ہے، جس کے سربراہ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ انہوں نے شاندار کام کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت اب بہت اچھے تعلقات کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

شہباز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا، ''یہ صاحب اس میں مدد کریں گے، ہے نا؟‘‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف، جو ان کے پیچھے کھڑے تھے، ٹرمپ کے اس تبصرے پر مسکرا پڑے اور شرکا میں قہقہے گونج اٹھے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ ٹرمپ بارہا بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کا سہرا اپنے سر لے چکے ہیں۔ کل اسرائیل کی کنیسٹ سے خطاب میں بھی انہوں نے اس کا ذکر کیا اور اسے ان 'آٹھ تنازعات‘ میں شامل کیا جنہیں، ان کے بقول، انہوں نے ہونے سے روکا۔

غزہ امن کانفرنس میں بھارت کی نمائندگی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کی۔

بعد میں بھارتی وزارت خارجہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارت اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ خطے میں پائیدار امن کا باعث بنے گا۔ شہباز شریف نے کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کے قیام میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ٹرمپ نے عاصم منیر کو مزاحیہ انداز میں اپنا ''پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دیا۔ اور شہباز شریف کو امن اقدام پر اپنے خیالات شیئر کرنے کی دعوت دی۔

شہباز شریف نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی تنازع کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ شریف کا کہنا تھا، ''اگر یہ صاحب اور ان کی بہترین ٹیم ان چار دنوں میں مداخلت نہ کرتی تو کون جانتا ہے، جنگ اس حد تک بڑھ سکتی تھی کہ کوئی بھی زندہ نہ بچتا جو بتا سکے کہ کیا ہوا تھا، کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔

‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''میں کہنا چاہوں گا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے اس لیے نامزد کیا کیونکہ ان کی شاندار اور غیر معمولی کوششوں سے پہلے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ روکی گئی، اور اب ان کی قابل تعریف ٹیم کے ساتھ مل کر غزہ میں امن ممکن ہوا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''آج میں ایک بار پھر اس عظیم صدر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا یقین ہے کہ وہ اس اعزاز کے سب سے موزوں اور مخلص امیدوار ہیں۔

انہوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن قائم کیا اور لاکھوں زندگیاں بچائیں بلکہ آج شرم الشیخ میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن لا کر لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں۔‘‘

شہباز شریف نے ٹرمپ کو 'مثالی اور بصیرت رکھنے والے رہنما‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’’دنیا ہمیشہ آپ کو ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ہر ممکن کوشش کی اور سات، بلکہ اب آٹھ، جنگوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

‘‘

شہباز شریف کی گفتگو ختم ہونے پر ٹرمپ نے پوڈیم پر آ کر مسکراتے ہوئےکہا ''واہ! میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔ چلیے اب گھر چلتے ہیں، میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں بچا۔ سب کو خدا حافظ! یہ واقعی بہت خوبصورت اور دل سے کیا گیا خطاب تھا، آپ کا بہت شکریہ۔‘‘

پاکستان کا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مصر میں عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران خطے میں امن کے قیام اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔

وزیرِ اعظم شریف نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے دوران غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستانی رہنما نے فلسطینی عوام کے حوصلے اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہر اس پرامن کوشش کی حمایت کرے گا جو تشدد کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے کی جائے۔

محمود عباس نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے فلسطینی عوام کو ہمیشہ ''غیر متزلزل سیاسی اور سفارتی حمایت‘‘ فراہم کی۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت اور پاکستان اعظم شہباز شریف فلسطینی عوام کے شہباز شریف نے پاکستان کے انہوں نے ادا کیا کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ