نوبل انعام: اعلیٰ ظرفی، کم ظرفی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بالآخر امن کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا گیا یہ انعام وینزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کو دیا گیا، وہ 2011 سے 2014 تک رکن پارلیمان رہیں، انہیں یہ انعام آمریت کے خلاف جدوجہد اور جمہوری آزادیوں کے دفاع پر دیا گیا ہے، وہ اس وقت خفیہ مقام پر روپوش ہیں، انہیں 2024 میں وینز ویلا کی عدالتوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کے مقابل نہ آ سکیں جو 2013 سے اقتدار میں ہیں محترمہ ماریا کو امن انعام ملنے کے بعد یہ انعام حاصل کرنے کا ٹرمپ کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے جنہوں نے یہ انعام حاصل کرنے کے لیے خود بڑے پیمانے پر مہم چلائی تھی، چھے جنگیں ختم کرانے کے دعوے کیے تھے، حتیٰ کہ یہ تک کہا تھا کہ اگر انہیں انعام نہیں دیا گیا تو یہ امریکا کی توہین ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے پتا چلتا ہے کہ ان کی ذہنی سطح بھی پاکستانی رہنماؤں جتنی ہی ہے، ہمارے ہاں بھی سیاست دان ہوں یا دیگر اداروں کے قائدین اپنی تعریف خود کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں پھر ان کے طبلچی میدان میں آ جاتے ہیں، امریکا میں بھی ایسا ہی ہوا ہے پہلے ٹرمپ صاحب خود کہتے رہے کہ میری یہ اور یہ خدمات ہیں، اتنی جنگیں رکوائی ہیں، آخر میں غزہ جنگ بندی کا سہرا بھی اپنے سر باندھا اور کہا کہ اب تو امن کا نوبل انعام مجھے لازماً ملنا چاہیے، حالانکہ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو انہیں انعام نہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، غزہ میں انسانی تاریخ کے جو بدترین مظالم ہوئے اس کا ذمے دار صرف نیتن یاہو نہیں، ٹرمپ بھی ہے، ہزارہا مرد و خواتین اور بچے بمباری کر کے بے قصور موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، خوراک تک کی فراہمی روک دی گئی جس کے باعث بڑی تعداد میں بچے بھوک پیاس سے بلک بلک کر دم توڑ گئے، ان سب کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہیں، ان دونوں پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلا کر سزا سنائی جانی چاہیے، صدر ٹرمپ ایک طرف جنگ رکوانے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپین کو ناٹو سے نکال دیا جائے، اسپین کی خطا یہ ہے کہ اس نے جنگی بجٹ میں اضافہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ یورپی یونین اور دیگر ممالک پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے جنگی بجٹ کے لیے زیادہ رقوم مختص کریں۔ اب تک سنجیدہ اور مہذب رہنما ہتھیاروں کی دوڑ رکوانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں ٹرمپ واحد شخص ہے جو مطالبہ کر رہا ہے کہ ہتھیاروں کے لیے زیادہ فنڈز رکھے جائیں اس سوچ کے حامل شخص کا امن کے نوبل انعام کا حقدار ہونے کا دعویٰ بہت ہی مضحکہ خیز ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے کراچی میں منشیات کا کاروبار کرنے والے اپنے دفتر پر انسداد منشیات کی تنظیم کا بورڈ لگا لیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کی اپیل پاکستان کے ساتھ ساتھ روسی صدر پیوٹن نے بھی کی تھی، جو اس وقت بھی یوکرین کے ساتھ خود شروع کردہ جنگ میں مصروف ہیں، پڑوسی ملک پر جارحیت کرنے والا کس منہ سے امن کے نوبل انعام کے حوالے سے کوئی بھی بات کر سکتا ہے، ایک طرف امریکی صدارت کے بڑے عہدے پر فائز چھوٹی سوچ کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو بار بار اپنے آپ کو نوبل انعام کا حقدار جتاتے رہے، دوسری طرف امریکا ہی کے مشہور سائنس دان فریڈ ریمز ڈل کی بے نیازی دیکھیے کہ انہیں 2025 کا نوبل انعام برائے طب دینے کا اعلان کیا گیا مگر انہیں اس کی خبر ہی نہیں، وہ پہاڑوں میں بغیر موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ہائکنگ کے مزے لے رہے ہیں ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنی بہترین زندگی گزار رہے ہیں اور فی الحال کسی سے رابطے میں نہیں ہیں۔
ایک جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چونگ نے نوبل امن انعام کا اعلان ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن کے معاہدے کرا رہے ہیں جنگیں ختم کرا رہے ہیں اور زندگیاں بچا رہے ہیں جبکہ نوبل کمیٹی نے پھر دکھایا کہ وہ امن سے زیادہ سیاست کو ترجیح دیتی ہے، نوبل کمیٹی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ جب آمر اقتدار پر قابض ہوں تو آزادی کے محافظوں کا کردار تسلیم کرنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے جو مزاحمت کرتے ہیں اور امید کو زندہ رکھتے ہیں دوسری جانب نوبل انعام حاصل کرنے والی خاتون ماریا کورینا مچاڈو نے انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ میں یہ انعام وینز ویلا کے مظلوم عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کرتی ہوں جنہوں نے جدوجہد میں ہماری حمایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف ملک میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بیرون ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف و تحسین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بھارت سے جنگ میں جب پاکستان نے فتح حاصل کی اس وقت بھی شہباز شریف ہی پاکستان کے وزیراعظم تھے انہوں نے فتح کا مکمل کریڈٹ فیلڈ مارشل کو دیا اگرچہ بعد میں پنجاب کی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے قوم کو بتایا بھی کہ جنگ کا سارا نقشہ، ڈیزائن مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے بنا کر دیا تھا، پھر بھی میاں شہباز شریف جیت کا سہرا فیلڈ فیلڈ مارشل کے سر ہی باندھتے رہے،گزشتہ روز پاک فوج نے افغانستان کی در اندازیوں کا جواب دیتے ہوئے انہیں جو سبق سکھایا وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر بھی فیلڈ مارشل کی زبردست تعریف و توصیف کی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ جنگ بندی چاہتے ہیں اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو کر جنگ بندی یقینی بنائی، ہم غزہ میں بچوں کو خون میں نہاتا نہیں دیکھ سکتے تھے، دنیا غزہ جیسی صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی کو نسل کشی اور قتل عام کی اجازت دی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے مذکورہ بالا جملے بہت ہی تکلیف دہ ہیں، صدر ٹرمپ اگر جنگ بندی چاہتے تو یہ بہت پہلے ہو سکتی تھی، حماس نے تو پہلے بھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ہوگئی تھی لیکن اسرائیل مذاکرات کے دوسرے دور سے بھاگ گیا، وزیراعظم نیتن یاہو نے عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل نہیں ہونے دیا اور حملے مزید تیز کر دیے، صدر ٹرمپ اس وقت اگر حق کا ساتھ دیتے تو نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکتے لیکن وہ تو مسلسل ان کی پشت پناہی کرتے رہے اور صرف حماس کو ہی نہیں تمام فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتے رہے، یہ امریکا ہی تھا جس نے دنیا بھر کی امن کوششوں کو بار بار ناکام بنایا، غزہ میں امن کے لیے جب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی امریکی نمائندے نے اسے ویٹو کیا آج کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ثابت کر دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی چاہتے تھے، غزہ میں قتل عام ہوتا رہا، نسل کشی ہوتی رہی اور امریکی صدر حماس کو دھمکاتا رہا، اب کہا جا رہا ہے کہ غزہ میں قتل عام اور نسل کشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی – اجازت نہیں دی جا سکتی کیا معنیٰ؟ اجازت دی گئی، بار بار دی گئی، قتل عام ہوتا رہا، نسل کشی ہوتی رہی۔
اس وقت اگر کوئی تعریف و تحسین کے قابل ہے تو وہ غزہ کے عوام اور حماس کی قیادت ہے کہ بدترین مظالم کے باوجود وہ میدان میں ڈٹے رہے، بھاگے نہیں اور اب مذاکرات کی میز پر انتہائی فہم و فراست کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف امریکی صدر نیتن یاہو انعام کا یہ انعام انہوں نے کرتے ہیں دیا گیا کے ساتھ قتل عام ہیں اور رہے ہیں نہیں دی کے لیے امن کے کہا کہ کر دیا
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔