Jasarat News:
2026-06-03@00:14:59 GMT

 نوبل انعام: اعلیٰ ظرفی، کم ظرفی

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

 نوبل انعام: اعلیٰ ظرفی، کم ظرفی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

بالآخر امن کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا گیا یہ انعام وینزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کو دیا گیا، وہ 2011 سے 2014 تک رکن پارلیمان رہیں، انہیں یہ انعام آمریت کے خلاف جدوجہد اور جمہوری آزادیوں کے دفاع پر دیا گیا ہے، وہ اس وقت خفیہ مقام پر روپوش ہیں، انہیں 2024 میں وینز ویلا کی عدالتوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کے مقابل نہ آ سکیں جو 2013 سے اقتدار میں ہیں محترمہ ماریا کو امن انعام ملنے کے بعد یہ انعام حاصل کرنے کا ٹرمپ کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے جنہوں نے یہ انعام حاصل کرنے کے لیے خود بڑے پیمانے پر مہم چلائی تھی، چھے جنگیں ختم کرانے کے دعوے کیے تھے، حتیٰ کہ یہ تک کہا تھا کہ اگر انہیں انعام نہیں دیا گیا تو یہ امریکا کی توہین ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے پتا چلتا ہے کہ ان کی ذہنی سطح بھی پاکستانی رہنماؤں جتنی ہی ہے، ہمارے ہاں بھی سیاست دان ہوں یا دیگر اداروں کے قائدین اپنی تعریف خود کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں پھر ان کے طبلچی میدان میں آ جاتے ہیں، امریکا میں بھی ایسا ہی ہوا ہے پہلے ٹرمپ صاحب خود کہتے رہے کہ میری یہ اور یہ خدمات ہیں، اتنی جنگیں رکوائی ہیں، آخر میں غزہ جنگ بندی کا سہرا بھی اپنے سر باندھا اور کہا کہ اب تو امن کا نوبل انعام مجھے لازماً ملنا چاہیے، حالانکہ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو انہیں انعام نہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، غزہ میں انسانی تاریخ کے جو بدترین مظالم ہوئے اس کا ذمے دار صرف نیتن یاہو نہیں، ٹرمپ بھی ہے، ہزارہا مرد و خواتین اور بچے بمباری کر کے بے قصور موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، خوراک تک کی فراہمی روک دی گئی جس کے باعث بڑی تعداد میں بچے بھوک پیاس سے بلک بلک کر دم توڑ گئے، ان سب کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہیں، ان دونوں پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلا کر سزا سنائی جانی چاہیے، صدر ٹرمپ ایک طرف جنگ رکوانے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپین کو ناٹو سے نکال دیا جائے، اسپین کی خطا یہ ہے کہ اس نے جنگی بجٹ میں اضافہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ یورپی یونین اور دیگر ممالک پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے جنگی بجٹ کے لیے زیادہ رقوم مختص کریں۔ اب تک سنجیدہ اور مہذب رہنما ہتھیاروں کی دوڑ رکوانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں ٹرمپ واحد شخص ہے جو مطالبہ کر رہا ہے کہ ہتھیاروں کے لیے زیادہ فنڈز رکھے جائیں اس سوچ کے حامل شخص کا امن کے نوبل انعام کا حقدار ہونے کا دعویٰ بہت ہی مضحکہ خیز ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے کراچی میں منشیات کا کاروبار کرنے والے اپنے دفتر پر انسداد منشیات کی تنظیم کا بورڈ لگا لیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کی اپیل پاکستان کے ساتھ ساتھ روسی صدر پیوٹن نے بھی کی تھی، جو اس وقت بھی یوکرین کے ساتھ خود شروع کردہ جنگ میں مصروف ہیں، پڑوسی ملک پر جارحیت کرنے والا کس منہ سے امن کے نوبل انعام کے حوالے سے کوئی بھی بات کر سکتا ہے، ایک طرف امریکی صدارت کے بڑے عہدے پر فائز چھوٹی سوچ کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو بار بار اپنے آپ کو نوبل انعام کا حقدار جتاتے رہے، دوسری طرف امریکا ہی کے مشہور سائنس دان فریڈ ریمز ڈل کی بے نیازی دیکھیے کہ انہیں 2025 کا نوبل انعام برائے طب دینے کا اعلان کیا گیا مگر انہیں اس کی خبر ہی نہیں، وہ پہاڑوں میں بغیر موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ہائکنگ کے مزے لے رہے ہیں ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنی بہترین زندگی گزار رہے ہیں اور فی الحال کسی سے رابطے میں نہیں ہیں۔

ایک جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چونگ نے نوبل امن انعام کا اعلان ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن کے معاہدے کرا رہے ہیں جنگیں ختم کرا رہے ہیں اور زندگیاں بچا رہے ہیں جبکہ نوبل کمیٹی نے پھر دکھایا کہ وہ امن سے زیادہ سیاست کو ترجیح دیتی ہے، نوبل کمیٹی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ جب آمر اقتدار پر قابض ہوں تو آزادی کے محافظوں کا کردار تسلیم کرنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے جو مزاحمت کرتے ہیں اور امید کو زندہ رکھتے ہیں دوسری جانب نوبل انعام حاصل کرنے والی خاتون ماریا کورینا مچاڈو نے انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ میں یہ انعام وینز ویلا کے مظلوم عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کرتی ہوں جنہوں نے جدوجہد میں ہماری حمایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف ملک میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بیرون ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف و تحسین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بھارت سے جنگ میں جب پاکستان نے فتح حاصل کی اس وقت بھی شہباز شریف ہی پاکستان کے وزیراعظم تھے انہوں نے فتح کا مکمل کریڈٹ فیلڈ مارشل کو دیا اگرچہ بعد میں پنجاب کی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے قوم کو بتایا بھی کہ جنگ کا سارا نقشہ، ڈیزائن مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے بنا کر دیا تھا، پھر بھی میاں شہباز شریف جیت کا سہرا فیلڈ فیلڈ مارشل کے سر ہی باندھتے رہے،گزشتہ روز پاک فوج نے افغانستان کی در اندازیوں کا جواب دیتے ہوئے انہیں جو سبق سکھایا وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر بھی فیلڈ مارشل کی زبردست تعریف و توصیف کی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ جنگ بندی چاہتے ہیں اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو کر جنگ بندی یقینی بنائی، ہم غزہ میں بچوں کو خون میں نہاتا نہیں دیکھ سکتے تھے، دنیا غزہ جیسی صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی کو نسل کشی اور قتل عام کی اجازت دی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے مذکورہ بالا جملے بہت ہی تکلیف دہ ہیں، صدر ٹرمپ اگر جنگ بندی چاہتے تو یہ بہت پہلے ہو سکتی تھی، حماس نے تو پہلے بھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ہوگئی تھی لیکن اسرائیل مذاکرات کے دوسرے دور سے بھاگ گیا، وزیراعظم نیتن یاہو نے عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل نہیں ہونے دیا اور حملے مزید تیز کر دیے، صدر ٹرمپ اس وقت اگر حق کا ساتھ دیتے تو نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکتے لیکن وہ تو مسلسل ان کی پشت پناہی کرتے رہے اور صرف حماس کو ہی نہیں تمام فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتے رہے، یہ امریکا ہی تھا جس نے دنیا بھر کی امن کوششوں کو بار بار ناکام بنایا، غزہ میں امن کے لیے جب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی امریکی نمائندے نے اسے ویٹو کیا آج کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ثابت کر دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی چاہتے تھے، غزہ میں قتل عام ہوتا رہا، نسل کشی ہوتی رہی اور امریکی صدر حماس کو دھمکاتا رہا، اب کہا جا رہا ہے کہ غزہ میں قتل عام اور نسل کشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی – اجازت نہیں دی جا سکتی کیا معنیٰ؟ اجازت دی گئی، بار بار دی گئی، قتل عام ہوتا رہا، نسل کشی ہوتی رہی۔

اس وقت اگر کوئی تعریف و تحسین کے قابل ہے تو وہ غزہ کے عوام اور حماس کی قیادت ہے کہ بدترین مظالم کے باوجود وہ میدان میں ڈٹے رہے، بھاگے نہیں اور اب مذاکرات کی میز پر انتہائی فہم و فراست کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف امریکی صدر نیتن یاہو انعام کا یہ انعام انہوں نے کرتے ہیں دیا گیا کے ساتھ قتل عام ہیں اور رہے ہیں نہیں دی کے لیے امن کے کہا کہ کر دیا

پڑھیں:

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔

نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی