پشاور ہائیکورٹ: وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ peshawar high court WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز

پشاور: (آئی پی ایس) پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کی حلف برداری میں تاخیر سے متعلق پاکستان تحریکِ انصاف کی آرٹیکل 255 کے تحت دائر آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی، جس دوران عدالت نے متعدد بار گورنر خیبرپختونخوا کے مؤقف پر استفسار کیا۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ میں یہ بتائیں کہ گورنر نے اس حوالے سے کیا کہا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر سرکاری دورے پر کراچی میں ہیں اور وہ کل فلائٹ کے ذریعے واپس آئیں گے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو کیا وہ کل حلف لیں گے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ایک الگ معاملہ ہے، ہمیں یہ بتائیں کہ حلف لیں گے یا نہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر کل واپس آ کر قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

گورنر کے وکیل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈا پور کو طلب کرنے کے بعد گورنر کراچی گئے تھے اور واپسی کے بعد وہ قانون کے مطابق اقدام اٹھائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ کے استعفیٰ دینے سے ہی استعفیٰ ہو جاتا ہے، چاہے گورنر منظور کریں یا نہیں۔

گورنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ابھی یہ کہنا کہ گورنر حلف نہیں لیں گے، قبل از وقت ہے۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا کل یہ ممکن ہوگا کہ گورنر حلف لینے کا فیصلہ کریں، نہ کہ استعفیٰ کے معاملے پر فیصلہ کریں؟ علی امین گنڈاپور نے تو اسمبلی فلور پر استعفیٰ کی تصدیق کر دی تھی۔

وکیلِ گورنر نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ گورنر اس وقت صوبے میں موجود نہیں تھے، وہ کوئی فیصلہ خود دیکھے بغیر نہیں کر سکتے۔

پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈا پور نے استعفیٰ دیا اور نئے وزیرِاعلیٰ کو ووٹ بھی دیا، گورنر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ کل بھی کوئی نیا راستہ اختیار کر کے معاملہ مؤخر کریں۔

بعدازاں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر زراعت پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد کا چین کا دورہ وزیر زراعت پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد کا چین کا دورہ عثمان بزدار دور کی 200 ملین روپے کی بڑی مالی بے ضابطگی ، سرکاری افسران ملوث قرار مذہبی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے باعث مسلسل 6 دنوں بند فیض آباد کو کھولنے کا فیصلہ مرید کے : ٹی ایل پی کا پُر تشدد احتجاج اور حملے، پولیس افسر شہید، 12 اہلکار زخمی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے استعفے اور حلف برداری کا معاملہ، گورنر فیصل کریم کنڈی نے جواب تیار کرلیا مذہبی جماعت کا احتجاج: سعد رضوی سمیت 3500 سے زائد کارکنان کے خلاف دہشتگردی اور قتل کا مقدمہ درج TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ فیصلہ محفوظ درخواست پر حلف لینے پر فیصلہ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ