مغرب میں مسلم شناخت پر فخر کریں، دین و تعلیم میں مضبوطی ہی کامیابی کا راستہ ہے، علما کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹورانٹو: اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (آئی سی این اے) کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی کنونشن منعقد ہوا، جس میں پاکستان، برطانیہ، مشرقِ وسطیٰ، کینیڈا، امریکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے ممتاز اسلامی اسکالرز اور رہنماؤں نے شرکت کی، مقررین نے مغرب میں مقیم مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، معیشت، سماج اور سیاست کے میدانوں میں مضبوط بنیاد قائم کریں اور موجودہ چیلنجز کے باوجود اپنے دین اور اسلامی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
کنونشن سے خطاب کرنے والوں میں معروف اسلامی اسکالرز ڈاکٹر یاسر قاضی، ڈاکٹر عمر سلیمان، شیخ ابراہیم ہندی، ڈاکٹر الطاف حسین، الجزیرہ ٹی وی کے صحافی سمیع ہمدی، ڈاکٹر اقبال مسعود ندوی، خالد رحمان، آکنا یو ایس اے کے سربراہ سعد کاظمی اور آکنا کینیڈا کے امیر اسامہ لبیب شامل تھے۔
مقررین نے کہا کہ مغرب میں مسلمانوں کے لیے یہ وقت صبر، شعور اور استقامت کا ہے، نئی نسل کو تعلیم اور تحقیق میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلامی تشخص پر فخر کرنا چاہیے، انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کے سماجی و سیاسی نظام میں فعال کردار ادا کریں اور اپنے کلچر اور اقدار کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کریں۔
غزہ کے مظلوم عوام کے حوالے سے مقررین نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کینیڈین مسلم کمیونٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، فلسطینی عوام کی حمایت میں سوشل میڈیا سمیت ہر فورم کو مؤثر طور پر استعمال کریں۔
کنونشن میں امتِ مسلمہ کے مستقبل کے لیے اجتماعی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا، مقررین نے نوجوان لڑکیوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی اور اسلامی اقدار کو ترجیح دیں اور مغربی طرزِ زندگی کے اندھا دھند تقلید سے اجتناب کریں۔
دو روزہ کنونشن میں ہزاروں افراد نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شرکت کی، اس موقع پر اسلامی تنظیموں اور کاروباری اداروں کے اسٹالز بھی لگائے گئے جبکہ نوجوانوں، طلباء اور خواتین کے لیے خصوصی سیشنز کا اہتمام کیا گیا۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور اسرائیلی وزراء کی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب فلسطینی عوام کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔