مشہور پنجابی گلوکار راج ویر جاونڈا، جو شملہ کے قریب ایک سنگین سڑک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد بھارتی پنجاب کے موہالی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، آج بدھ کے روز 35 سال کی عمر میں چل بسے۔

بھارت پنجاب کے ایجوکیشن منسٹر ہرجوت سنگھ بینس نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راج ویر ایک باصلاحیت فنکار تھے جنہوں نے پنجابی موسیقی کو نئی پہچان دی۔

ਮਸ਼ਹੂਰ ਪੰਜਾਬੀ ਗਾਇਕ ਰਾਜਵੀਰ ਜਵੰਦਾ ਦੇ ਦੇਹਾਂਤ ਦੀ ਖਬਰ ਸੁਣ ਕੇ ਮਨ ਨੂੰ ਗਹਿਰਾ ਦੁੱਖ ਪਹੁੰਚਿਆ।

ਬੀਤੇ ਦਿਨੀਂ ਹਿਮਾਚਲ ਪ੍ਰਦੇਸ਼ ਦੇ ਬੱਦੀ ਇਲਾਕੇ ਵਿੱਚ ਸੜਕ ਹਾਦਸੇ ਦਾ ਸ਼ਿਕਾਰ ਹੋਏ ਰਾਜਵੀਰ ਜਵੰਦਾ ਪਿਛਲੇ ਕਈ ਦਿਨਾਂ ਤੋਂ ਫੋਰਟਿਸ ਹਸਪਤਾਲ ‘ਚ ਜ਼ੇਰੇ ਇਲਾਜ ਸਨ।

ਗੁਰੂ ਸਾਹਿਬ ਵਿਛੜੀ ਰੂਹ ਨੂੰ ਆਪਣੇ ਚਰਨਾਂ ‘ਚ ਨਿਵਾਸ ਬਖ਼ਸ਼ਣ ਅਤੇ ਪਰਿਵਾਰ… pic.

twitter.com/kkPWp53GvU

— Harjot Singh Bains (@harjotbains) October 8, 2025


پنجاب کانگریس کے صدر امرندر سنگھ راجہ نے بھی ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے لکھا، ’ہم سب نے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی تھی، لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری دعائیں ان کے اہلِ خانہ اور مداحوں کے ساتھ ہیں۔ واہِ گرو انہیں سکون عطا فرمائے۔‘

راج ویر جاونڈا 27 ستمبر کو ہماچل پردیش کے ضلع سولن کے علاقے بیڈی میں ایک موٹر سائیکل حادثے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق، وہ شملہ کی طرف جا رہے تھے جب ان کی بائیک بےقابو ہو کر گر گئی۔ حادثے میں انہیں سر اور ریڑھ کی ہڈی پر شدید چوٹیں آئیں۔ انہیں فوراً موہالی کے فورٹس اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے لیکن جانبر نہ ہوسکے۔

راج ویر نہ صرف ایک کامیاب گلوکار تھے بلکہ انہوں نے اداکاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ گپی گریوال کی فلم ’صوبیدار جوگندر سنگھ‘ میں نظر آئے جو 2018 میں بنی تھی، اسکے بعد 2019 کی فلمیں ’جند جان‘ اور ’مندو تحصیلدارنی‘ جیسی فلموں میں بھی کام کیا۔

ان کے مداح سوشل میڈیا پر ان کے لیے تعزیتی پیغامات لکھ رہے ہیں۔ ان کے گانوں کے نیچے ہزاروں کمنٹس میں مداحوں نے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

راج ویر جاونڈا کی موت نہ صرف پنجابی میوزک انڈسٹری کے لیے بلکہ پورے شمالی بھارت کے موسیقی کے شائقین کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی آواز، ان کا انداز اور ان کا فن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: راج ویر کے لیے

پڑھیں:

واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔

کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔

حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد