اریج فاطمہ نے کینسر سے صحتیابی کے بعد عمرہ ادا کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کینسر سے صحتیابی کے بعد سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرلی۔
دین کے خاطر شوبز کی خیرباد کہہ کر انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے عمرے کی ادائیگی کے دوران اپنے روحانی تجربات اور احساسات سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کینسر کے خلاف کامیاب جدوجہد کے بعد عمرہ ادا کرنا ان کے لیے نہایت جذباتی اور شکرگزاری کا لمحہ تھا۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ’الحمدللّٰہ، ہم نے عشاء کے بعد نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ عمرہ مکمل کیا اور دل سے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا‘۔
View this post on InstagramA post shared by Arij Fatyma (@arijfatymajafri)
اریج فاطمہ نے مزید بتایا کہ اگلا دن خانہ کعبہ میں عبادت کرتے ہوئے گزرا، جہاں انہیں حطیم میں نماز ادا کرنے اور کسوہ پر اپنے خاندان کے نام لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ اگرچہ وہ حجر اسود کے قریب پہنچ گئیں تھیں، لیکن ہجوم کی وجہ سے اسے بوسہ نہیں دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات صبر اور تحمل بھی عبادت کی ایک صورت ہے۔
یاد رہے کہ اریج فاطمہ نے حال ہی میں مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کینسر میں مبتلا تھیں تاہم اب وہ اسے شکست دے کر زندگی کی طرف واپس لوٹ گئیں ہیں۔ انہوں نے مداحوں کیلئے کینسر سے آگاہی کی ویڈیوز بھی شیئر کی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اریج فاطمہ نے کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔