data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: وٹامن بی تھری موذی مرض کینسر سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ویب سائٹ کے مطابق حال ہی میں طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ یومیہ وٹامن بی تھری کے ڈوز لینے والے افراد میں اسکن کینسر ہونے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہوجاتے ہیں۔نئی تحقیق جو JAMA Dermatology میں شائع ہوئی، کے مطابق 33,000 سے زائد امریکی سابق فوجیوں کا جائزہ لیا گیا۔

جائزے سے پتا چلا کہ جن لوگوں نے نیکوٹینامائڈ (وٹامن بی 3 کا ایک جزو) لیا، ان میں غیر میلانوما جلد کے کینسر کے کیسز کم تھے۔نتائج کے مطابق نیکوٹینامائڈ لینے والوں میں جلد کے کینسر (جیسے بیسل سیل کارسینوما اور اسکوامس سیل کارسینوما) کا خطرہ مجموعی طور پر 14 فیصد کم تھا۔

اسی طرح جن لوگوں نے جلد کے کینسر کی پہلی تشخیص کے بعد نیکوٹینامائڈ شروع کیا، ان میں دوبارہ کینسر ہونے کا خطرہ نصف سے بھی کم ہو گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو کئی بار کینسر ہوا، ان میں نیکوٹینامائڈ کا اثر کم تھا لیکن پھر بھی فائدہ مند تھا۔

اس سے قبل 2015 میں 386 افراد پر کی گئی ایک تحقیق نے بھی دکھایا تھا کہ نیکوٹینامائڈ لینے والوں میں نئے کینسر کے کیسز کم ہوئے۔نئی تحقیق جو بڑے پیمانے پر حقیقی ڈیٹا پر مبنی ہے، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نیکوٹینامائڈ جلد کے کینسر سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نیکوٹینامائڈ ان لوگوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے جو زیادہ خطرے میں ہیں اور پہلے کینسر کا شکار ہو چکے ہیں، بشرط کہ وہ وٹامن بی تھری کی خوراک دن میں دو بار باقاعدگی سے لیں۔

ساتھ ہی ماہرین نے تجویز دی کہ وٹامن بی تھری کے سپلیمینٹس کو سن اسکرین اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جلد کے کینسر

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ