data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251014-2-11

ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے دشت گردی ایک ذہنی بیماری ہے۔ انہوں نے یہ بات سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم میں‘‘انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے’’کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کو تعلیم کے ہتھیار سے ہی شکست دی جا سکتی ہے اور تعلیم کے ذریعے ہی امن و ترقی کی نئی راہیں متعین کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوانوں میں برداشت کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے جسے بڑھانے کے لیے یونیورسٹی ہم نصابی اور صحت مند سرگرمیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے جو انتہا پسندی اور منفی سوچ سے بچا سکتا ہے سندھ زرعی یونیورسٹی نہ صرف زراعت ماحولیاتی علوم اور سائنس کا مرکز ہے بلکہ یہ سماجی شعور، تعلیم اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے لیے‘‘اسٹوڈنٹس ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام کے پلیٹ فارم سے مختلف تعلیمی و سماجی پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اپنانے کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال سے بھی بچنا چاہیے، کیونکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے دشمن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ اگر انہیں دشمن کی کسی سرگرمی کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہو تو وہ فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کریں تاکہ ملک و قوم کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ فنانشل اسسٹنس کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ معاشرے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف بندوق یا دھماکوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تقسیم کو جنم دیتی ہے، اور اس سوچ کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں فاؤنڈیشن اسکول حیدرآباد کی پرنسپل سدرۃ المنتہیٰ بھٹی، ڈاکٹر بخت علی نوناری اور دیگر مقررین نے بھی نوجوانوں میں شعور اور سماجی ذمے داری کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا سیمینار میں طلبہ، اساتذہ، ماہرین اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

راصب خان اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تعلیم کے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار