بھارت: ماؤ نواز رہنما سمیت 60 باغیوں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سینئر ماؤ نواز باغی رہنما اور 60 دیگر جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ پیش رفت باغیوںکی طرف سے عشروں سے جاری شورش کو ختم کر دینے کا اعلان کرنے کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے۔ بھارت نکسلی بغاوت کی آخری باقیات کے خلاف ایک شدید مہم چلا رہا ہے جس کا نام ہمالیہ کے دامن میں واقع اس گاؤں کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں تقریباً 6عشرے قبل ماؤ سے متاثر ہو کر شورش شروع کی گئی تھی۔ نئی دہلی نے مارچ 2026 ء تک شورش کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے مالوجولا وینوگوپال راؤ جو عرف سونو کے ساتھ 60 دیگر افراد کے ہتھیار ڈالنے کی تصدیق کی۔ راؤ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 1980 ء کے عشرے سے باغیوں کے ساتھ تھا۔ اس نے وسطی بھارت میں چھتیس گڑھ کی سرحد کے قریب ریاست مہاراشٹر کے گڈچرولی علاقے میں ہتھیار حوالے کیے۔ چھتیس گڑھ کے نائب وزیرِ اعلیٰ وجے شرما نے صحافیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی تصدیق کی لیکن اس میں شامل افراد کا نام نہیں لیا۔ شرما نے کہاکہ ہم ان تمام لوگوں کو خوش آمدید کہیں گے جو مرکزی دھارے میں شامل ہوں گے۔ لیکن جو لوگ ایسا نہ کریں، ان سے ہماری فوج صحیح طریقے سے نمٹے گی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) نے اگست میں جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنی مسلح جدوجہد کو معطل کر دے گی۔ یہ ستمبر میں منظر عام پر لایا گیا۔ ماؤنواز باغیوں نے کہا کہ انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی نظام اور قومی صورتِ حال اور نئی دہلی کی طرف سے مسلسل اپیلوں کے باعث اپنا موقف تبدیل کیا۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے بارہا خبردار کیا ہے کہ وہ ماؤنواز باغیوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دیہاتیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے 1967 میں اپنے جاگیرداروں کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 12ہزار سے زیادہ باغی اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز