سرکاری ملازمین کےاثاثے پبلک اور شیئر کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کی کڑی شرط پوری کرنے کیلئے اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے اور شیئر کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کرنے کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشواروں کے اشتراک کے رولز 2023میں مزید ترامیم کا مجوزہ مسودہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت پبلک سرونٹ کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے مجوزہ ترمیمی مسودے کے بارے میں عام عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے آراء بھی طلب کرلی ہیں اور کہا ہے کہ اگر کسی کو ان ترامیم پر کوئی اعتراض یا تجویز ہو تو وہ سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات دن کے اندر ایف بی آر کو ارسال کی جاسکتی ہیں۔
موصول ہونے والی تمام تجاویز اور اعتراضات کو غور و خوض کے بعد حتمی فیصلے میں شامل کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے یہ ترامیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کی ذیلی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال میں تیار کی ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر عوامی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت قواعد میں مختلف اصطلاحات میں تبدیلی کی گئی ہے سب سے نمایاں ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول استعمال ہوا ہے اسے پبلک سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ رول نمبر دو میں پبلک سرونٹ کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے، ترمیمی مسودے کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا کسی صوبائی حکومت، خودمختار ادارے، کارپوریشن یا سرکاری ملکیتی کمپنی میں گریڈ 17 یا اس سے بالا درجے کا افسر ہوگا۔
اس تعریف میں 1973کے سول سرونٹس ایکٹ کے تحت گورن کیے جانے والے ملازمین بھی شامل ہوں گے تاہم نیب آرڈیننس 1999کی دفعہ 5 کی شق (ن) کی ذیلی شق (iv) کے تحت مستثنیٰ افراد اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو مزید جامع، واضح اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے مطابق بنانا ہے تاکہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلے کا نظام شفاف اور موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر کے مطابق کے تحت
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔