اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کاکہناہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی حکومت کے زیر غور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اکیومن کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جیکولین نووگراٹز کی سربراہی میں وفد نے وزیر خزانہ سے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری، معاشی اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور موسمیاتی لچک سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی استحکام کی پالیسیوں، جاری اصلاحاتی اقدامات اور مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے وفد کو آگاہ کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا اینالٹکس اور ڈیجیٹل انضمام سے استفادہ حاصل کر رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہاکہ حکومت نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان 24 نئے مشترکہ منصوبے طے پا چکے ہیں،نجی شعبہ ملکی معیشت کا اصل انجن ہے اور حکومت برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی نظم و ضبط، توانائی لاگت میں کمی اور ٹیرف اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام ممکن ہے، حکومت رواں سال کے اختتام تک پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام ادائیگیاں آئندہ مالی سال کے اختتام تک مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دی جائیں گی، بیرونی منافع اور ڈیوڈنڈ کی ادائیگیاں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ 500 ملین ڈالر کے یوروبانڈ کی ادائیگی بھی معمول کے لین دین کے طور پر مکمل کر لی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کو اس وقت ماحولیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی آبادی جیسے دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اکیومن وفد نے پاکستان میں معاشی اصلاحات اور موسمیاتی لچکدار زراعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہاتے ہوئے  کہا کہ پاکستان کے تجربات اور اقدامات غیر معمولی ہیں، خاص طور پر زرعی شعبے میں پائیدار ترقی کے حوالے سے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان میں اکیومن کا 90 ملین ڈالر کا ایگریکلچر رزیلینس فنڈ جاری ہے، جس کا مقصد پائیدار زراعت اور موسمیاتی مطابقت کے منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کہ پاکستان کے مطابق

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش