ویب ڈیسک : جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد پہلا ویڈیو پیغام جاری کر دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں مشتاق احمد خان نے کہا کہ میں اپنے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 150 ساتھیوں کے ساتھ اردن پہنچ چکا ہوں۔ 5 سے 6 دن اسرائیل کے بدنام زمانہ جیل میں رہنے کے بعد ہمیں رہائی مل چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی قید کے دوران ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر ان کو پیچھے باندھا گیا، پاؤں میں زنجیرے ڈالی گئیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور ہمارے اپر کتے چھوڑے گئے، ہم پر بندوق تانی گئی، ہمیں بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قید میں ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 3 دن بھوک ہڑتال کی کیونکہ ہمیں کھانا، پانی، ادویات و دیگر چیزوں تک رسائی نہیں دی گئی تھی، لیکن اب ہم رہا ہو چکے ہیں، فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا

 
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس ناکہ بندی کو توڑیں گے، ہم بار بار غزہ جائیں گے، غزہ کو بچانے کی کوشش کریں گے اور جو نسل کشی کے مجرم ہیں ان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، مزاحمت جاری رکھیں گے، اڈیالہ جیل سے اسرائیلی جیلوں تک، فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، اسرائیل کے خاتمے تک ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

مشتاق احمد نے کہا کہ میں جلد پاکستان پہنچ کر فلوٹیلا کے سفر اور اسرائیلی قید کی روداد بیان کروں گا۔واضح رہے کہ مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل تھے جو غزہ کے فلسطینیوں کی مدد کے لیے اسپین سے روانہ ہوا تھا لیکن اسرائیلی بحریہ نے تمام کارکنوں کو منزل تک پہنچنے سے قبل ہی گرفتار کر لیا تھا

سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مشتاق احمد خان اسرائیلی قید

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم