عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )وفاقی حکومت کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے چیئرمین کیلئے موزوں ترین شخصیت کی تلاش، بیس اکتوبر سے پہلے اشتہار جاری کرنے کا فیصلہ۔تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کی دوسری مرتبہ مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد یکم اکتوبر سے چیئرمین پیمرا کی پوسٹ خالی ہے۔ محمد سلیم بیگ کومسلم لیگ ن کی حکومت میں شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمی کے دوران 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں طویل مقدمہ بازی کے بعد بطور چیئرمین پیمرا تعینات کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت میں دوبارہ انہیں تین سال کیلئے چیئرمین تعینات کیا گیا۔ اس حوالے سے نئے چیئرمین کی تعیناتی کیلئے وزارت اطلاعات و نشریات میں نیا اشتہار تیار کرنے کے حوالے سے کام شروع کر دیا گیا ہے جس کے مطابق میڈیا میں 15سے25سال تجربہ رکھنے اور ماسٹر ڈگری تعلیم کے علاوہ دیگر شرائط و ضوابط رکھی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے غور و غوص جاری ہے اور وزیراطلاعات و نشریات کی منظوری کے بعد باضابطہ طور اخبارات میں اشتہار جاری کیا جائے گا۔ شرائط و ضوابط کے حوالے سے مشاورت جاری ہے ، قوی امکان یہ ہے کہ حتمی اشتہار آنے کے بعد اس بات کا تعین کرنا آسان ہو گا کہ کس شخصیت کو چیئرمین پیمرا تعینات کرنے کیلئے حکومت کے ذہن میں خاکہ ہے۔
عموماجس شخصیت کو حکومت تعینات کرنا چاہتی ہے اس کی تعلیم و تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے اشتہار بنایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان کو ریٹائرمنٹ کے بعد اس پوسٹ پر تعیناتی کی امید دلائی گئی ہے جبکہ ان کے متوقع مد مقابل سابق سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، سہیل علی خان اور مبشر توقیر شاہ ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، سابق چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کی تیسری بار تعیناتی کیلئے حکومت کو صدارتی آرڈیننس لانا پڑے گا۔وزارت اطلاعات چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کیلئے تین ناموں کا پینل وزیراعظم کو بھیجوائے گی اور وزیراعظم اس سمری کو حتمی منظوری کیلئے صدر پاکستان کو بھجوائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کروں گا: مریم نواز کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کروں گا: مریم نواز شامی فوج اور کرد جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی طے پاگئی پاکستانی اسپن جال سے بچنے کیلئے جنوبی افریقا نے اسپن کھیلنے پر فوکس کرلیا ماسکو فارمیٹ: پاکستان، بھارت، چین اور ایران کا افغانستان کی صورتحال پر غور صدر مملکت کی سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان جاری تنا ئو پر وزیر داخلہ کو کردار ادا کرنے کی ہدایت ایئر پورٹ پر غیر معمولی گرمجوشی:وزیراعظم محمد شہباز شریف ملائیشیا کا سرکاری دورہ مکمل کرکے پاکستان روانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین پیمرا تعیناتی کی حوالے سے کے بعد
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔