داؤد یونیورسٹی نے ریسرچ پروڈکٹس ڈیولپمنٹ یونٹ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی نے مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ اور درآمدی متبادل کیلئے ایک اہم اور شاندار قدم اٹھاتے ہوئے ریسرچ پروڈکٹس ڈیولپمنٹ یونٹ (RPDU) قائم کر دیا۔
اس جدید یونٹ کا افتتاح چیئرمین اینگرو حسین داؤد نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کراچی میں کیا۔
افتتاحی تقریب میں سرکاری حکام، صنعتوں کے نمائندگان، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران، ریگولیٹری اداروں کے افسران، وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز او آر آئی سیز، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر آر پی ڈی یو کے تحت قائم چار اسٹارٹ اپس HOAE، دستکار، ایپسلن اسمارٹ سلوشنز (ESS) اور سائبر گارڈ کے دفاتر کا افتتاح ٹیم ممبران کی ماؤں سے کروایا گیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔
ڈائریکٹر اوریک ڈاکٹر محمد فیصل خان نے افتتاحی کلمات میں آر پی ڈی یو کے قیام کو اختراع، ایجاد اور کمرشلائزیشن کے فروغ میں سنگ میل قرار دیا۔
چیئرمین اینگرو حسین داؤد نے اپنے خطاب میں اپنی کاروباری جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ ناکامی کے خوف کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں۔
انہوں نے داؤد یونیورسٹی کو نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں سیٹ اپ قائم کرنے والی پہلی یونیورسٹی بننے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین نے کہا کہ آر پی ڈی یو کو یونیورسٹی کیمپس کے بجائے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں قائم کرنے کا مقصد اسٹارٹ اپس کو کارپوریٹ ماحول فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ داؤد یونیورسٹی نے اسٹارٹ اپس کو ایک سال کیلئے بلا معاوضہ دفتر فراہم کیا ہے جبکہ ان کے انٹلیکچول پراپرٹی کے اخراجات بھی خود ادا کیے ہیں۔
انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین نے مزید کہا کہ آر پی ڈی یو کا مقصد ایسی مصنوعات تیار کرنا ہے جو درآمدی اشیاء کا متبادل بن سکیں۔ انہوں نے ملک بھر کی جامعات کے درمیان تعاون اور وسائل کے اشتراک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی فنڈز کی بچت ممکن ہوگی۔
تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا، یادگاری شیلڈز پیش کیں اور مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانے کے ساتھ نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: داو د یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی ا ر پی ڈی یو کہا کہ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔