سعودی عرب میں 11ویں موسمیاتی کنٹرول (Climate Control) کانفرنس بھرپور انداز میں جاری ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ماہرینِ ماحولیات، پالیسی ساز، صنعت کار اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے شرکت کی۔

یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت پائیدار ترقی، توانائی کے مؤثر استعمال اور جدید ماحولیاتی و تعمیراتی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے نمایاں اقدامات کر رہا ہے۔

تقریب میں توانائی، ماحولیات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے عالمی ماہرین نے اپنی تحقیقی رپورٹس، عملی تجربات اور اختراعی منصوبے پیش کیے۔ اس موقع پر پالیسی و ضابطہ جاتی سیشنز، ٹیکنو کمرشل پریزنٹیشنز، کیس اسٹڈیز، پینل ڈسکشنز اور نیٹ ورکنگ سیشنز بھی منعقد ہوئے، جن میں معروف انجینئرز، کنسلٹنٹس، مینوفیکچررز اور ڈسٹرکٹ کولنگ سروس فراہم کرنے والے شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب کے ویژن 2030 سے پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب جس تیزی سے ٹیکنالوجی، پائیداری اور موسمیاتی بہتری کے میدان میں ترقی کر رہا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وژن خطے کو ترقی، اختراع اور ماحول دوست مستقبل کی نئی سمت دے رہا ہے۔

اس موقع پر پاکستانی کمپنیوں کی شرکت بھی خصوصی طور پر نمایاں رہی۔ پاکستانی کمپنی کے شریک بانی شکیل احمد کیانی نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے بغیر کمپریسر کے ایئر کنڈیشننگ سسٹم متعارف کرایا ہے، جو روایتی نظاموں کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد بجلی کی بچت فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کو توانائی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے ماہرین کے درمیان ملاقاتیں اور تجربات کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب میں نابینا افراد کے لیے جدید نیویگیشن سسٹم تیار

اس موقع پر فریڈرک پیلے (شریک بانی و کمرشل ڈائریکٹر)، انجینئر جویریہ اسد اور امیر حمزہ (بیسٹ ایچ ایل چیئرز) نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس نے ماحولیاتی بہتری اور پائیدار ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

ماہرین کے مطابق، موسمیاتی کنٹرول کانفرنس کا یہ ایڈیشن نہ صرف ٹیکنالوجی اور پالیسی کے امتزاج کی بہترین مثال ہے بلکہ یہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ خطے کے ممالک پائیدار اور ماحول دوست مستقبل کے لیے ایک مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹیکنالوجی سعودی وژن 2030.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی سعودی وژن 2030 کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے