اپوزیشن لیڈر کے نام، بانی کے حکم پر کسی ممبر کو اختلاف نہیں: عامر ڈوگر
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
عامر ڈوگر—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہیپ عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے نام اور بانی کے حکم پر کسی ایک ممبر کو اختلاف نہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزدگی کے خط پر 41 ارکانِ اسمبلی نے دستخط کر دیے، 36 مزید ارکانِ اسمبلی اپوزیشن لیڈر بنائے جانے سے متعلق خط پر دستخط کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے سابق رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر گرفتارعامر ڈوگر نے کہا کہ جمعرات تک تمام ارکان کے دستخط کرا کر اسپیکر آفس میں لیٹر جمع کرا دیا جائے گا، 75 ارکانِ قومی اسمبلی جن میں محمود خان اچکزئی بھی شامل ہیں، ان کے دستخط ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو کوشش ہوگی کہ اسپیکر چیمبر میں یہ درخواست جمع کرا دی جائے، نام فائنل ہونے سے قبل مختلف آراء تجاویز اور اختلاف ہوتے ہیں، مگر جب قائد نے کہہ دیا تو اس کے فیصلے کو سب قبول کریں گے۔
پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامرڈوگر نے یہ بھی کہا ہے کہ 100 فیصد اراکین قومی اسمبلی نے حکم کے بعد کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا، تمام ارکان اسمبلی نے اسپیکر سیکریٹریٹ میں اپنے استعفے جمع کرائے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر عامر ڈوگر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔