نریندر مودی نے چیف جسٹس سے بات کرکے ایک ہندو وکیل کیطرف سے ان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ اس حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس بی آر گوئی کی طرف مبینہ طور پر جوتا پھینکنے کی کوشش کا چیف جسٹس کی ماں اور ان کی بہن نے سخت مخالفت کی ہے۔ چیف جسٹس کی ماں کملاتائی گوئی نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لے کر بدامنی پھیلانے کا اختیار نہیں ہے۔ وہیں حملے سے متعلق سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس کی بہن کیرتی نے کہا کہ یہ زہریلا نظریہ ہے اور بدامنی پھیلانے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملے کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس کی ماں کملاتائی گوئی نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے ذریعہ دیا گیا آئین "آپ جیئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں" کے اصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لے کر بدامنی پھیلانے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبھی کو اپنے موضوعات امن اور آئین کے راستے سے ہی حل کرنا چاہیئے۔

چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انکی بہن کیرتی گوئی نے کہا کہ کل کا حادثہ ملک کو شرمسار کرنے والا اور قابل مذمت حادثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ذاتی حملہ نہیں، بلکہ ایک زہریلا نظریہ ہے، جسے روکنا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی عمل کرنے والوں پر کارروائی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں آئین کے سطح پر پرامن طریقے سے ہی مخالفت درج کرنی چاہیئے تاکہ بھیم راؤ امبیڈکر کے خیالات کو کوئی آنچ نہ آئے۔ دوسری جانب بارکونسل آف انڈیا (بی سی آئی) نے چیف جسٹس بی آر گوئی کی طرف مبینہ جوتا پھینکنے کی کوشش کرنے کے ملزم وکیل راکیش کشور کو کل پیر کے روز ہی فوری طور پر معطل کردیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پیش آئے اس شرمناک حادثہ سے چیف جسٹس حیران رہ گئے اور انہوں نے عدالت کے افسران اور کورٹ روم میں موجود سیکورٹی اہلکاروں سے اسے نظرانداز کرنے اور راکیش کشور نامی قصوروار وکیل کو وارننگ دے کر چھوڑ دینے کو کہا۔

حالانکہ اس حملے کی ہر طرف مذمت کی جارہی ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سمیت ملک کے کئی بڑے لیڈران نے بھی مذمت کی ہے۔ نریندر مودی نے چیف جسٹس سے بات کرکے ایک وکیل کی طرف سے ان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ اس حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں اس طرح کے قابل مذمت فرائض کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی نے حادثہ کے بعد امن بنائے رکھنے کے لئے چیف جسٹس کی جم کر تعریف بھی کی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملہ شرمناک ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیف جسٹس بی آر گوئی انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی نہیں ہے مذمت کی کی بہن کو بھی

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا