چیف جسٹس آف انڈیا پر حملہ زہریلا نظریہ ہے جسے روکنا ہوگا، بی آر گوئی کی بہن
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
نریندر مودی نے چیف جسٹس سے بات کرکے ایک ہندو وکیل کیطرف سے ان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ اس حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس بی آر گوئی کی طرف مبینہ طور پر جوتا پھینکنے کی کوشش کا چیف جسٹس کی ماں اور ان کی بہن نے سخت مخالفت کی ہے۔ چیف جسٹس کی ماں کملاتائی گوئی نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لے کر بدامنی پھیلانے کا اختیار نہیں ہے۔ وہیں حملے سے متعلق سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس کی بہن کیرتی نے کہا کہ یہ زہریلا نظریہ ہے اور بدامنی پھیلانے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملے کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس کی ماں کملاتائی گوئی نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے ذریعہ دیا گیا آئین "آپ جیئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں" کے اصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لے کر بدامنی پھیلانے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبھی کو اپنے موضوعات امن اور آئین کے راستے سے ہی حل کرنا چاہیئے۔
چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انکی بہن کیرتی گوئی نے کہا کہ کل کا حادثہ ملک کو شرمسار کرنے والا اور قابل مذمت حادثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ذاتی حملہ نہیں، بلکہ ایک زہریلا نظریہ ہے، جسے روکنا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی عمل کرنے والوں پر کارروائی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں آئین کے سطح پر پرامن طریقے سے ہی مخالفت درج کرنی چاہیئے تاکہ بھیم راؤ امبیڈکر کے خیالات کو کوئی آنچ نہ آئے۔ دوسری جانب بارکونسل آف انڈیا (بی سی آئی) نے چیف جسٹس بی آر گوئی کی طرف مبینہ جوتا پھینکنے کی کوشش کرنے کے ملزم وکیل راکیش کشور کو کل پیر کے روز ہی فوری طور پر معطل کردیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پیش آئے اس شرمناک حادثہ سے چیف جسٹس حیران رہ گئے اور انہوں نے عدالت کے افسران اور کورٹ روم میں موجود سیکورٹی اہلکاروں سے اسے نظرانداز کرنے اور راکیش کشور نامی قصوروار وکیل کو وارننگ دے کر چھوڑ دینے کو کہا۔
حالانکہ اس حملے کی ہر طرف مذمت کی جارہی ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سمیت ملک کے کئی بڑے لیڈران نے بھی مذمت کی ہے۔ نریندر مودی نے چیف جسٹس سے بات کرکے ایک وکیل کی طرف سے ان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ اس حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں اس طرح کے قابل مذمت فرائض کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی نے حادثہ کے بعد امن بنائے رکھنے کے لئے چیف جسٹس کی جم کر تعریف بھی کی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس بی آر گوئی پر حملہ شرمناک ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف جسٹس بی آر گوئی انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی نہیں ہے مذمت کی کی بہن کو بھی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔