گلوبل صمود فلوٹیلا کی حفاظت امت مسلمہ کا امتحان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
روئے زمین پر بسنے والا ہر حساس انسان فلسطین بالخصوص غزہ کے مجبور، بے بس، لاچار، بھوکے پیاسے اوربیمار باسیوں کی حالت زار پر شدید مضطرب، اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم اور پوری دنیا کے بے حس حکمرانوں کے رویوں پر غمگین اور افسردہ ہے۔ مگر اسرائیلی بربریت اور دنیا کی بے حسی شیردل مظلومین غزہ کے حوصلے اور ہمت کو نہیں توڑ سکی۔
اگر درندہ صفت صیہونیوں نے ظلم و بربریت اور اقوام عالم نے بے حسی کی انتہا کردی تو اہل غزہ نے استقامت و بہادری کی ایسی تاریخ رقم کردی ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ دینے سے قاصر ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط اسرائیلی محاصرے میں گزشتہ دو سال سے وحشیانہ شدت آئی ہے۔ غزہ اس وقت ایک سفاکانہ جیل کا منظر پیش کر رہا ہے کوئی باہر آسکتا ہے اور نہ اندر جا سکتا ہے۔ اس وحشیانہ محاصرے کی وجہ سے بھوک مظلومین غزہ کے خلاف اسرائیل کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔
بھوک موت بن کر ناچ رہی ہے، غذائی قلت اور ادویات کی عدم دستیابی کے شکار مظلومین غزہ خصوصاً بچے ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں۔ ادویات ناپید یہاں تک کہ زخمیوں کے آپریشنز کے لیے اسپتالوں میں اینستھیزیا تک دستیاب نہیں، امت محمدی کے پھول جیسے خوبصورت معصوم بچوں کی ٹانگیں اور ہاتھ بغیر اینستھیزیا کے کاٹی جارہی ہیں، قیامت سے پہلے قیامت کا یہ سماں ڈرپوک، بزدل اور اقتدار کے پجاری مسلم حکمرانوں کے منہ پر خون آلود تھپڑ سے کم نہیں۔ امریکی اور اسرائیلی خوف سے عالمی عدالت انصاف، اقوام متحدہ، بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک کے ڈرپوک سہمے حکمران مظلومین غزہ کی داد رسی تو دور کی بات خوراک، ادویات پہنچانے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔
بڑے بڑے اسلامی ممالک کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک اسرائیل جو دو ارب مسلمانوں کے تھوک میں ڈوب سکتا ہے مگر وہ جس اسلامی ملک پر چاہے حملہ کرتا ہے مگر افسوس کہ خوفزدہ مسلمان حکمرانوں میں کھڑے ہونے کی ہمت نہیں مگر جو ممالک اپنے اوپر حملوں پر نہیں اٹھتے ان سے یہ امید لگانا کہ وہ غزہ کے مظلوموں کی ڈھال بنیں گے یا ان تک امداد پہنچائیں گے، خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
جس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے لیے دنیا بھر کی مملکتوں کے سربراہان کے جہاز امریکا کے شہر نیویارک میں اتر رہے تھے عین اس وقت 40 سے زائد ممالک کے درد رکھنے والے انسانیت دوست بہادر انسانوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا 50 سے زیادہ سویلین بحری جہازوں اور کشتیوں کے ساتھ سمندر کے کھلے پانیوں میں بپھری ہوئی موجوں کو چیرتا ہوا غزہ کے وحشیانہ صیہونی محاصرے کو توڑنے کے لیے رواں دواں ہے۔
قافلہ استقامت میں صرف مسلمان نہیں 40 سے زائد ممالک کے ہر رنگ ونسل اور مذہب کے وہ لوگ شامل ہیں جو مظلومین غزہ پر اسرائیلی بربریت کے خلاف ہیں، حتیٰ کہ امریکا سے تعلق رکھنے والے وہ یہودی بھی اس قافلہ استقامت کا حصہ ہیں جو غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف ہیں۔ یہ قافلہ تاریخ انسانی میں انسانیت کی خاطر نکلنے والا سب سے بڑا قافلہ صبر و استقامت اور انسان دوستی کا استعارہ بن چکا ہے، جو بین الاقوامی دہشتگردوں کے محاصرے کو توڑنے، بھوکے پیاسے اور لاغر و بیمار مظلومین غزہ تک پہنچنے کے لیے بحیرہ روم کو چیرتا ہوا جرات اور بہادری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، فلسطین ایکشن کولیشن پاکستان کا 5 رکنی وفد سابق سینیٹر مشتاق خان کی قیادت میں، اور آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مولانا پیر سید مظہر سعید کشمیری اپنی ذاتی حیثیت میں پاکستان کی نمایندگی کر رہے ہیں، ان سرفروشوں پر پوری قوم کو فخرہے۔
مشتاق احمد خان کے کہنے کے مطابق "قافلہ استقامت میں کسی بھی ملک کی کوئی حکومتی شخصیت ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا نمایندہ، مجھ سمیت یہ سب ذاتی حیثیتوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ ہیں۔ قافلہ استقامت میں ترکی، فرانس اور آئرلینڈ کے پارلیمیٹیرین تو موجود ہیں مگر افسوس کہ پاکستان سمیت کسی دوسرے اسلامی ملک کا کوئی پارلیمنٹیرین نہیں ہے"۔ فلسطین ایکشن کولیشن پاکستان میں پاک فلسطین فورم، بلاک آؤٹ موومنٹ، شعب ابی طالب فاؤنڈیشن، تحریک آزادی فلسطین، ٹوگیدر فارالقدس، مینڈ یورہارٹس، پاکستان فار فلسطین اور یوتھ لنک شامل ہیں۔ اس اتحاد کا نصب العین اور مقصد پاکستان میں مظلومین غزہ و فلسطین کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
اس قافلے کا آغاز بحیرہ روم کے گیٹ وے آبنائے جبرالٹر سے ہوا، اسلامی فوج کے سپہ سالار طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسی راستے سے بحیرہ روم میں داخل ہوئے تھے اور ہسپانیہ (موجودہ اسپین) کو فتح کیا تھا۔ اس لیے اس بحری ساحل پر موجود پہاڑی کو جبل الطارق کہا جاتا ہے، اس مقام پر پہنچ کر طارق بن زیاد نے فتح یا شہادت کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے اپنی کشتیاں جلا دی تھیں،کشتیاں جلانے کے بعد وہ اور ان کے ساتھی ڈٹ کر دشمن کے خلاف لڑ ے اور اللہ کریم نے انھیں فتح عطاء کی۔ اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے قافلہ استقامت میں چالیس سے زائد ممالک کے خوش نصیب انسان دوست بندے اسی اسپین میں جمع ہوئے اور غزہ کی جانب روانہ ہوئے انشاء اللہ طارق بن زیاد کی طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔
قافلہ استقامت لڑنے یا جنگ کرنے نہیں، بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق مظلومین غزہ تک امداد پہنچانے جارہا ہے۔ دنیا کا کوئی قانون انھیں اس کار خیر اور انسانیت دوستی سے نہیں روک سکتا مگر بین الاقوامی دہشتگرد اسرائیل اب تک اس قافلے پر 7 ڈورن حملے کر چکا ہے گذشتہ ہفتے صمود فلوٹیلا کے سب سے بڑے جہاز کو تیونس کے ساحل پر ڈرون حملے کا نشانہ بنایا تو جہاز میں آگ بھڑک اٹھی مگر شکر الحمدللہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ موسمیاتی رکاوٹوں کے باعث اس قافلے کی غزہ کے لیے روانگی کئی بار موخر کی گئی۔ مگر انشاء اللہ بہت جلد یہ قافلہ اسرائیلی محاصرہ توڑ کر غزہ پہنچ جائے گا۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ"اسپین اور اٹلی کے دو بحری جہاز قافلہ استقامت کے ساتھ آملے ہیں، یہ جہاز قافلے کے پیچھے پیچھے ہمارے ساتھ غزہ کے بارڈر تک جائیں گے تاکہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کا کام کرسکیں، یہ بھی ہمارے لیے بہت بڑا سپورٹ اور باعث اطمینان ہے۔ مگر کاش یہ کام پاکستان یا کوئی اور اسلامی ملک کرتا لیکن ابھی تک انھوں نے پوری امت مسلمہ کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دیا"۔ جنیوا کے مزدور یونین کے سربراہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر گلوبل صمود فلوٹیلا کو غزہ جانے سے روکا گیا یا 20 منٹ بھی رابطہ منقطع کیا تو یہاں سے اسرائیل ایک کیل تک نہیں لے جاسکے گا، شاید اس طرح کے جرات مندانہ اقدامات اور رویوں کے لیے شیخ سعدیؒ نے فرمایا تھا:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
مشتاق احمد خان کے بقول ان کی کشتیوں کو ساؤنڈ بموں، دھماکہ خیز فلیئرز سے نشانہ بنایا گیا اور کشتیوں پر مشتبہ کیمیائی مادوں سے چھڑکاؤ کیا گیا۔ صمود فلوٹیلا کا ریڈیو جام کیا گیا، مدد کے لیے کالز بلاک کی گئیں۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار نے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ فلوٹیلا کے شرکاء کو "دہشت گرد" اور "جنگی مجرم" تصور کیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو قافلے کو بزور طاقت روکا جا سکتا ہے۔ یہ دھمکی نہ صرف قافلہ استقامت کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ کسی بھی پرامن امدادی بیڑے کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس پر عالمی برادری کو فوری ردِعمل ظاہر کرکے قافلہ استقامت کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اگر اقوام متحدہ، عالمی برادری یہ ذمے داری پوری نہیں کرتی تو اسلامی ممالک کو غیرت کا مظاہرہ کرکے گلوبل صمود فلوٹیلا کی حفاظت کے لیے اپنے بحری بیڑوں کو بھیجنا ہوگا۔ نہ صرف قافلہ استقامت کے شرکاء بلکہ ساری دنیا ان کی طرف دیکھ رہی ہے اگر انھوں نے اس بار بھی مایوس کیا تو مخلوق کی نظروں سے گر کر خالق کا قہر انھیں عبرت کا نشان بنا دے گا۔ ہر ممبر و محراب اور فورم سے قافلہ استقامت کی حفاظت کے لیے بھرپور آواز اٹھانا وقت کی ضرورت ہے، شرکاء قافلہ کو ہماری اخلاقی سپورٹ اور دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔ انشاء اللہ ہماری دعائیں، اس قافلے اور اہل غزہ کی طاقت بنیں گی اور یہ قافلہ طارق بن زیاد کی طرح اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا قافلہ استقامت میں بین الاقوامی طارق بن زیاد مظلومین غزہ اس قافلے کی حفاظت ممالک کے سکتا ہے کے خلاف غزہ کے کے لیے اور اس
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔