صیہونی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی: اسرائیلی فوج کے حملوں میں صبح سے اب تک 61فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
غزہ: اسرائیل کی غزہ میں مسلسل تباہی اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، فجر کے بعد سے اب تک کم از کم 61 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
آج صبح اسرائیلی فضائیہ نے الزیتون محلے کے مشرقی حصے میں بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل ہونے والے اسکول کو نشانہ بنایا، فلسطینی سول ڈیفنس کا عملے نے جائے وقوع پر پہنچ کر متاثرین کو ملبے سے نکالنے کی کوشش کی تو اس دوران اسرائیلی افواج نے اُسی مقام پر ایک اور حملہ کر دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جب ریسکیو ٹیمیں متاثرین کو ملبے سے نکال رہی تھیں تو ان پر براہ راست ایک اور حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے، العربی ہسپتال کے طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس حملے میں 6 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
دیگر حملوں میں دارج محلے کے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 7 افراد شہادت کر مرتبے پر فائض ہوئے، جبکہ جنوب مشرقی زیتون محلے میں ایک بچہ بھی شہید ہوا۔
غزہ شہر پر مسلسل بمباری نے اس کے بڑے شہری مرکز کو زمین بوس کر دیا ہے، روزانہ درجنوں افراد شہید ہو رہے ہیں، رہائشی عمارتیں اور اسکول تباہ ہو رہے ہیں اور ہزاروں فلسطینی نامعلوم مستقبل کے ساتھ جنوب کی طرف جانے پر مجبور ہیں، جہاں راستے میں بھی ان پر حملے کیے جاتے ہیں۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے الراشد اسٹریٹ بند کر دی، جو شہریوں کے لیے غزہ کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کا ایک اہم راستہ تھا۔
ایمرجنسی اور ایمبولینس ذرائع کے مطابق وسطی غزہ کے نصیرات اور بُریج کیمپوں میں 2 گھروں پر فضائی حملوں میں 3 فلسطینی شہید ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شہید ہو
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔