دعائیہ تقریب سے مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کا دو ریاستی حل عدل و انصاف کا قتل اور شہدائے مقاومت فلسطین کے خون سے غداری اور فلسطینی عوام کے موقف سے انحراف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی زیر صدارت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں شہید القدس فلسطین حسن نصراللہ کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب سے مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید القدس حسن نصراللہ کے افکار و مشن کو زندہ اور عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مولانا محمد امین انصاری نے کہا کہ شہدائے مقاومت فلسطین نے اسلام کا سر فخر سے بلند کردیا۔ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد داؤد نے کہا کہ حسن نصراللہ، اسماعیل ھنیہ جیسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ علامہ عبدالخالق فریدی سلفی نے کہا کہ شہدائے فلسطین کامیاب، اسرائیل، امریکہ مقاصد میں ناکام رہے۔ مولانا منظرالحق تھانوی نے کہا کہ حسن نصراللہ ایک فکر و نظریہ کا نام ہے جسے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

متحدہ علماء محاذ اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے مرکزی رہنما خطیب شعلہ بیان مولانا حافظ محمد ابراہیم چترالی نے کہا کہ حکومتی سطح پر گلوبل صمود فلوٹیلا کی حمایت کا اعلان کیا جائے اور ان کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ خطیب اہل بیت علامہ سید سجاد شبیر رضوی نے کہا کہ شہدائے مقاومت فلسطین بلاامتیاز مسلک وحدت امت، حریت و عزیمت کا عملی مظہر ہیں جن کا کردار قابل تقلید و ستائش ہے۔ مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، علامہ ڈاکٹر مفتی عبدالغفور اشرفی، علامہ عبدالماجد فاروقی، مولانا مفتی وجیہہ الدین نے کہا کہ فلسطین کا دو ریاستی حل عدل و انصاف کا قتل اور شہدائے مقاومت فلسطین کے خون سے غداری اور فلسطینی عوام کے موقف سے انحراف ہے۔ دعائیہ تقریب سے مولانا مفتی علی المرتضیٰ، ڈاکٹر و ادیب فیضان فاروقی، مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک و دیگر نے خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہدائے مقاومت فلسطین حسن نصراللہ نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت