جماعت اسلامی کے پی جنوبی کے امیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں مسئلہ فلسطین کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل فلسطینی کاز کے ساتھ غداری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے قائم مقام امیر محمد ظہور خٹک نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کیے گئے منصوبے اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس کی حمایت پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت آئینِ پاکستان اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے آئین میں مسئلہ فلسطین کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل فلسطینی کاز کے ساتھ غداری ہے۔ وزیراعظم یا کوئی اور قوم اور پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر اس حساس معاملے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ دارالعلوم الاسلامیہ بنوں سے جاری کیے گئے بیان میں قائم مقام امیر صوبہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے جو اصول طے کئے ہیں، انہی کے مطابق معاملات آگے بڑھانے چاہئے۔ اصول یہ ہے کہ کسی بھی قوم کویہ حق حاصل ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر قبضہ ہو تو وہ مسلح جدوجہد کر سکتی ہے۔ اسرائیل غاصب ریاست ہے، نہ صرف ارضِ مقدس پر قبضہ کیا ہے، بلکہ 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں کو زخمی کرچکا ہے، اسرائیل بد ترین نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے باضمیر لوگ اور اقوام اس ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے ظالمانہ اکیس نکات پر مشتمل امن منصوبہ مضحکہ خیز ہے۔ وزیراعظم پاکستان و فیلڈ مارشل کا اس پر رضامند ہونا غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے خون کا سودا کرنے کے مترادف ہے، ہمارے حکمران یہ نہ بھولیں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے ایک ریاستی حل یعنی صرف فلسطین کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غاصب ریاست ہے، اس کا وجود ناجائز ہے۔ غزہ کے عوام نے نصف صدی سے بالعموم اور گذشتہ دو سال سے بالخصوص ثابت قدمی کے ساتھ اسرائیلی بمباری و سفاکیت کا سامنا کیا ہے، لیکن اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ جنگ اہل غزہ نے تنہا لڑی ہے اور کسی مسلمان ملک نے نہ تو فوجی امداد دی ہے اور نہ ہی سیاسی و سفارتی محاذ پر ان کاساتھ دیا ہے۔ بلکہ مصر، اردن اور کچھ دیگر ممالک اس جنگ میں اسرائیل کا یا تو ساتھ دیا ہے یا پھر ایسے اقدامات کئے ہیں جس کا فائدہ اسرائیل کو پہنچا ہے اور اہل غزہ اس رویے سے شدید کرب میں رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل جو مقاصد جنگ سے حاصل نہ کر سکے، وہ سیاسی ذرائع سے حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کو یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اس جنگ کا دوسرا فریق حماس ہے۔ غزہ کے عوام نے حماس کو منتخب کیا تھا اور صرف وہی مذاکرات کے مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری کشمکش کا کوئی حل حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اہلِ غزہ پر زبردستی کا کوئی حل مسلط کرنے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ایسا کوئی بھی حل نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا، بلکہ امتِ مسلمہ بھی اسے قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مغرب کے عوام سمیت پوری دنیا کے عوام اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں فلسطین اور غزہ پر کوئی بھی سودے بازی پاکستان کے عوام برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت پہلے سے سیاسی لحاظ سے ایک کمزور حکومت ہے۔ اگر غزہ پر سودے بازی کی گئی تو یہ حکومت اپنے تابوت میں آخری کیل خود ہی ٹھوکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل فلسطین کے کے ساتھ کے عوام غزہ کے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن