تحصیلدار نے واضح کیا کہ اگر مسجد قانونی اور منظور شدہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو تالاب کی زمین پر کوئی بھی ڈھانچہ چاہے وہ مسجد ہو یا کوئی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق گرا دیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے سنبھل کے صدر تحصیل کے محلہ حاتم سرائے علاقہ میں انتظامیہ تقریباً 80 مکانات اور ایک مسجد کو بلڈوز سے گرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لینڈ مافیا نے غیر مجاز پلاٹنگ میں مصروف عمل ہے۔ سب کو نوٹس جاری کر دئے گئے ہیں، کچھ گھروں کے لئے 26 ستمبر کو اور مسجد سمیت کئی دیگر تعمیرات کے لئے 30 ستمبر کو نوٹسز شائع کئے گئے تھے۔ انتظامیہ نے تمام سے 15 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔ تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ اگر مسجد یا دیگر لوگوں سے تسلی بخش جواب نہیں ملتا ہے تو بلڈوزر کا استعمال کیا جائے گا۔

تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق سرکاری تالاب 8 بیگھوں پر محیط ہے۔ اس زمین پر تقریباً 12-13 سال پہلے ایک بڑی مسجد بنائی گئی تھی۔ تاہم جب اکاؤنٹنٹ معائنہ کے لئے پہنچے تو کسی نے مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اس کے ٹرسٹی ہونے کا دعویٰ کیا، چنانچہ مسجد پر نوٹس لگا دیا گیا۔ تحصیلدار نے واضح کیا کہ اگر مسجد قانونی اور منظور شدہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو تالاب کی زمین پر کوئی بھی ڈھانچہ چاہے وہ مسجد ہو یا کوئی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق گرا دیا جائے گا۔

سنبھل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین پہلے تالاب کے طور پر رجسٹرڈ تھی، لیکن اسے لینڈ مافیا نے غیر قانونی طور پر پلاٹ کر کے معصوم لوگوں کو بیچ دیا تھا۔ یہ دلالوں اور لینڈ مافیا کی ملی بھگت تھی۔ بہت سے خاندانوں نے بھروسہ کرتے ہوئے رقم ادا کی۔ تحصیلدار نے کہا کہ ناجائز قابضین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور جن لوگوں کو زمین فروخت کی گئی ان کی بھی تصدیق کی جائے گی۔ انتظامیہ نے اکاؤنٹنٹ کی ٹیم کو تحقیقات میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ تحصیلدار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جو بھی اس طرح کی اراضی کی خریداری میں ملوث ہے وہ فوری طور پر اپنے کاغذات اور شکایات تحصیل میں جمع کرائیں۔ تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قواعد کے خلاف غیر مجاز تجاوزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انتظامیہ کے مطابق سرکاری تالاب کی زمین پر بنائے گئے 80 گھروں کو 15 دن کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ کچھ گھر باقی ہیں، ابھی نوٹسز کے ساتھ پیش کیا جانا ہے۔ ان کو بھی جلد دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ یہاں بنی مسجد کے متولی کے نام ایک نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ تحصیلدار نے واضح طور پر کہا کہ اگر 15 دن کے اندر جواب نہ آیا تو بلڈوزر کارروائی کی جائے گی، چاہے اس علاقے میں مکانات ہوں یا مذہبی مقامات۔ دوسری جانب تحصیل انتظامیہ کے نوٹس پر کہرام مچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ حاتم سرائے علاقہ ایس پی ایم پی ضیاء الرحمن برق اور ایس پی ایم ایل اے اقبال محمود کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ ایس پی ایم پی اور ایس پی ایم ایل اے کی رہائش گاہوں کے درمیان واقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحصیلدار نے ایس پی ایم کے مطابق جائے گا کہ اگر

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی