اترپردیش میں انتظامیہ نے 80 مکانات اور ایک مسجد پر بلڈوزر کارروائی کا منصوبہ بنایا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
تحصیلدار نے واضح کیا کہ اگر مسجد قانونی اور منظور شدہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو تالاب کی زمین پر کوئی بھی ڈھانچہ چاہے وہ مسجد ہو یا کوئی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق گرا دیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے سنبھل کے صدر تحصیل کے محلہ حاتم سرائے علاقہ میں انتظامیہ تقریباً 80 مکانات اور ایک مسجد کو بلڈوز سے گرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لینڈ مافیا نے غیر مجاز پلاٹنگ میں مصروف عمل ہے۔ سب کو نوٹس جاری کر دئے گئے ہیں، کچھ گھروں کے لئے 26 ستمبر کو اور مسجد سمیت کئی دیگر تعمیرات کے لئے 30 ستمبر کو نوٹسز شائع کئے گئے تھے۔ انتظامیہ نے تمام سے 15 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔ تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ اگر مسجد یا دیگر لوگوں سے تسلی بخش جواب نہیں ملتا ہے تو بلڈوزر کا استعمال کیا جائے گا۔
تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق سرکاری تالاب 8 بیگھوں پر محیط ہے۔ اس زمین پر تقریباً 12-13 سال پہلے ایک بڑی مسجد بنائی گئی تھی۔ تاہم جب اکاؤنٹنٹ معائنہ کے لئے پہنچے تو کسی نے مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اس کے ٹرسٹی ہونے کا دعویٰ کیا، چنانچہ مسجد پر نوٹس لگا دیا گیا۔ تحصیلدار نے واضح کیا کہ اگر مسجد قانونی اور منظور شدہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو تالاب کی زمین پر کوئی بھی ڈھانچہ چاہے وہ مسجد ہو یا کوئی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق گرا دیا جائے گا۔
سنبھل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین پہلے تالاب کے طور پر رجسٹرڈ تھی، لیکن اسے لینڈ مافیا نے غیر قانونی طور پر پلاٹ کر کے معصوم لوگوں کو بیچ دیا تھا۔ یہ دلالوں اور لینڈ مافیا کی ملی بھگت تھی۔ بہت سے خاندانوں نے بھروسہ کرتے ہوئے رقم ادا کی۔ تحصیلدار نے کہا کہ ناجائز قابضین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور جن لوگوں کو زمین فروخت کی گئی ان کی بھی تصدیق کی جائے گی۔ انتظامیہ نے اکاؤنٹنٹ کی ٹیم کو تحقیقات میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ تحصیلدار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جو بھی اس طرح کی اراضی کی خریداری میں ملوث ہے وہ فوری طور پر اپنے کاغذات اور شکایات تحصیل میں جمع کرائیں۔ تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قواعد کے خلاف غیر مجاز تجاوزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انتظامیہ کے مطابق سرکاری تالاب کی زمین پر بنائے گئے 80 گھروں کو 15 دن کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ کچھ گھر باقی ہیں، ابھی نوٹسز کے ساتھ پیش کیا جانا ہے۔ ان کو بھی جلد دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ یہاں بنی مسجد کے متولی کے نام ایک نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ تحصیلدار نے واضح طور پر کہا کہ اگر 15 دن کے اندر جواب نہ آیا تو بلڈوزر کارروائی کی جائے گی، چاہے اس علاقے میں مکانات ہوں یا مذہبی مقامات۔ دوسری جانب تحصیل انتظامیہ کے نوٹس پر کہرام مچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ حاتم سرائے علاقہ ایس پی ایم پی ضیاء الرحمن برق اور ایس پی ایم ایل اے اقبال محمود کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ ایس پی ایم پی اور ایس پی ایم ایل اے کی رہائش گاہوں کے درمیان واقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحصیلدار نے ایس پی ایم کے مطابق جائے گا کہ اگر
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔