افغان مہاجرین کو تین دن کے اندر رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے کی ہدایت جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کوئٹہ کے سب ڈویژن سریاب میں مقیم افغان مہاجرین کو تین دن کے اندر رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سریاب میں آباد افغان شہری اپنے کاروبار، دکانیں اور دیگر سرگرمیاں تین روز کے اندر بند کریں، مہلت ختم ہونے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین سے کہا ہے کہ وہ فوکل پرسن سے رابطہ کریں تاکہ ان کی واپسی کا عمل باضابطہ طور پر مکمل کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کو وموثر بنانے کے لیے مقامی سطح پر بھی اقدامات تیز کر دیئے ہیں۔ 26 ستمبر کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں موجود پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران نے افغان مہاجرین کیمپس کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کیمپس کی زمین صوبائی حکومت اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ بند کیے گئے افغان مہاجرین کیمپس میں تین ڈسٹرکٹ ہری پور، ایک ایک ڈسٹرکٹ چترال اور دیر اپر میں تھے، 40 سال پرانے ہری پور کے پنیان کیمپ میں 1 لاکھ سے زائد مہاجرین رہائش پذیر تھے۔یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت افغان مہاجرین کی زیادہ تعداد خیبر پختونخوا میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔