انتظامیہ کی ملی بھگت اور تحقیقاتی اداروں کی چشم پوشی، گمبھیر صورتحال، ٹریفک مستقل جام
شیٹ نمبر 20کے رہائشی پلاٹ 39/4 پر دکانیں ، کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کی چھوٹ
ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ عروج پر ہے ،شیٹ نمبر 20کے رہائشی پلاٹ پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ جاری غیر قانونی تعمیرات پر مقامی رہائشیوں نے انتظامیہ کے اہلکاروں اور بلڈرز کے درمیان ملی بھگت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے آنکھیں بند کر لینے کے باعث یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کے پاس ایسے دستاویزی ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے باقاعدہ رشوت لے کر غیر قانونی تعمیرات کی منظوری دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق، ’’ایک مخصوص بلڈر نے پچھلے چھ ماہ میں پانچ منزلہ عمارت بغیر کسی روک ٹوک کے مکمل کر لی، جبکہ متعلقہ افسران ہر مرحلے پر خاموش تماشائی بنے رہے ۔رہائشیوں کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود، کوئی
بھی تحقیقاتی ادارہ اس معاملے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اینٹی کرپشن اور انکوائری کمیشن تک پہنچنے کے باوجود، اب تک اس حوالے سے کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔شرح واقعات کو جاننے کے لیے جب جرأت سروے ٹیم نے ایک محکمانہ عہدیدار سے بات کی جو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے ، تو انہوں نے کہایہ معاملے انتہائی طاقتور لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری حیثیت ہی کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کر سکیں؟ ہمیں تو اوپر سے ہدایات ملتی ہیں کہ معاملات کو ٹھنڈا رکھو۔کالونی کی ایک بزرگ خاتون مسز پروین اختر کا کہنا ہے کہ ہم نے ہر سطح پر آواز اٹھائی، مگر ہر جگہ سے ہمیں ٹھکرا دیا گیا‘‘،انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ نہ صرف بلدیہ، بلکہ پولیس اور دیگر ادارے بھی ان غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں‘‘۔اب رہائشیوں نے ہائی کورٹ کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر انتظامیہ اور تحقیقاتی ادارے اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہیں، تو عدالت ہی ان کے لیے انصاف کا آخری دروازہ ہے ۔رہائشیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتے میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مل کر ایک بڑا احتجاج کریں گے ، جس میں ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے