پنجاب :57 ہزار سستی رہائش گاہوں کی تعمیر کا منصوبہ محکمہ ہاؤسنگ کے زیر انتظام مکمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے کم آمدنی والے اور مستحق افراد کے لیے 57 ہزار معیاری اور سستی رہائش گاہوں کی تعمیر کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جو محکمہ ہاؤسنگ کے زیر انتظام مکمل کیا جائے گا۔
محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق پہلے مرحلے میں 20 ہزار رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے صوبے بھر میں 24 اضلاع کی 41 سائٹس کا انتخاب مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ ان سرکاری زمینوں کو پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے نام منتقل کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
منصوبے کی اہم تفصیلات کے مطابق رہائش گاہیں آسان اقساط پر مستحق افراد کو دی جائیں گی۔ 16 اضلاع میں 250 مربع فٹ پر محیط 22 سائٹس تعمیر ہوں گی، 5 اضلاع میں 530 مربع فٹ کی 3 منزلہ 11 سائٹس بنائی جائیں گی،3 اضلاع میں 550 مربع فٹ پر محیط 4 منزلہ 8 سائٹس تعمیر ہوں گی اور منصوبہ 5 سال میں مکمل کیا جائے گا۔
محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان کے مطابق ان رہائش گاہوں میں جدید ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شمسی توانائی نظام اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام بھی شامل ہوگا، تاکہ ماحول دوست اور پائیدار رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔رہائش گاہوں کی تعمیر بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی اور اس منصوبے کو ورلڈ بینک اور نجی شعبے کے اشتراک سے مکمل کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق یہ افورڈیبل ہاؤسنگ منصوبہ ایک بہترین حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا تاکہ عام شہری کو باوقار رہائش میسر آ سکے۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 رہائش گاہوں کی تعمیر محکمہ ہاؤسنگ کے کے مطابق جائے گا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔