غزہ جنگ بندی کے معاہدے میں بنیادی مطالبات برقرار ہیں: حماس
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تنظیم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتی ہے تاہم اس کے کچھ بنیادی مطالبات برقرار ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سینئیر رہنما فوزی برہوم نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو 2 سال مکمل ہونے پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کے لیے مصر میں موجود حماس کا وفد ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تمام رکاوٹیں دور کرنے پر کام کر رہا ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا کی ضمانت شامل ہونی چاہیے ، یہ وہ شرائط جنہیں اسرائیل ماضی میں مسترد کرچکا ہے۔
فوزی برہوم نے کہا کہ حماس ایسے معاہدے کی خواہاں ہے جس میں مستقل اور جامع جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ پٹی سے مکمل انخلا، انسانی و امدادی سامان کے غیر مشروط داخلے کی اجازت، بے گھر فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں فوری واپسی، قیدیوں کا تبادلہ اور فلسطینی تکنیکی ماہرین پر مشتمل انتظامیہ کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہو۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگی مجرم نیتن یاہو کی اُن کوششوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں جن کا مقصد موجودہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پہلے ہونے والے تمام جنگ بندی مذاکرات کو دانستہ طور پر ناکام بنایا تھا‘۔
خیال رہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کے لیے گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو ا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔