Jasarat News:
2026-06-03@02:42:59 GMT

کرکٹ کو سیاسی میدان کی جنگ نہ بنایا جائے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت اس وقت پاکستان کے تناظر میں سیاسی، دفاعی اور ابلاغ سمیت عالمی سفارت کاری کے محاذ پر پسپائی کا شکار ہے اور بھارت کو غصہ ہے کہ عالمی اور بالخصوص علاقائی سیاست میں اس کے پاس پاکستان کے خلاف برتری کا پہلو کمزور ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھارت کا مجموعی مزاج پاکستان مخالفت کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کی ایک جھلک ہمیں حالیہ ایشیا کپ کے مقابلوں میں ملی جہاں بھارت نے یقینی طور پر کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر اپنی برتری کو قائم کیا اور لگاتار تین میچوں میں پاکستان کو شکست دی۔ لیکن کھیل کے اس منظر نامے میں بھارت کی برتری کے باوجود اس کی سفارتی برتری یا کھیل کے میدان میں بھارت کے کرکٹ بورڈ، ٹیم اور مینجمنٹ سمیت ان کے میڈیا نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بھارت کا مجموعی رویہ پاکستان دشمنی پر مبنی تھا اور پہلے ہی میچ سے بھارت نے اپنے ہر عمل سے کرکٹ کے شائقین کو مایوس کیا اور ظاہر کیا کہ وہ کرکٹ کھیلنے سے زیادہ پاکستان دشمنی کا ایجنڈا رکھتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے تینوں میچوں میں کیا۔ میچ سے قبل دونوں کپتانوں کا ٹاس کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا اور میچ کے بعد نتیجہ کچھ بھی ہو ٹیم کا ایک دوسرے کے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانا کرکٹ کے کھیل کی روایت ہے اور کسی بھی ٹیم نے کبھی بھی اس روایت سے انحراف نہیں کیا، مگر بھارت کی کرکٹ ٹیم اور ان کی مینجمنٹ نے جیت کے باوجود یہ سب کچھ کیا جس کوکرکٹ کی تاریخ میں کوئی اچھی مثال نہیں کہا جاسکتا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر بھارت کے کپتان نے میچ جیت کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاوجہ پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے سیاست کو موضوع بحث بنایا، اس کی بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ایشیا کپ کے فائنل میں تو بھارت کی ٹیم نے حد ہی کردی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی سے ٹرافی لینے ہی سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اگر ٹرافی کو وصول کریں گے تو کسی اور مہمان سے لی جائے گی۔ بھارت کی ٹیم کے اس مایوس کن طرز عمل کی وجہ سے ٹرافی کی تقریب منعقد نہ ہوسکی اور عملی طور پر ایشیا کپ کے منتظمین کو ٹرافی فاتح ٹیم کو دیے بغیر واپس لے جانا پڑی۔ یقینی طور پر بھارت کے کپتان، کھلاڑیوں، مینجمنٹ نے جو کچھ ایشیا کپ کے دوران منفی طرز عمل کا مظاہرہ کیا وہ بھارت کی حکومت کی سرپرستی یا ان کے حکم کے بغیر نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ سے جڑے تمام ماہرین جن میں بھارت کے سابق کھلاڑی اور کمنٹیٹر بھی شامل تھے سب نے مل کر بھارت کے اس طرز عمل پر نہ صرف سخت تنقید کی بلکہ اسے کرکٹ کے کھیل کو سیاست کی نذر کرنے اور کھیل کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔ بھارت کے کرکٹ ماہرین کے بقول اگر یہ سب کچھ بھارت کی ٹیم کو کرکٹ کے میدان میں کرنا تھا تو بہتر تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے ہی سے انکار کردیتی تاکہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سیاسی سبکی یا شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آئی سی سی کو بھارت کے ایشیا کپ کے مجموعی طرز عمل پر سخت ایکشن لینا چاہیے تاکہ مستقبل میںکوئی بھی حکومت اپنی سیاست کو کرکٹ کی نذر نہ کرے اور نہ ہی عملاً کرکٹ کو سیاست میں بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔ ایک زمانے میں دو ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں کرکٹ کو بطور ڈپلومیسی استعمال کیا جاتا تھا اور جنرل ضیا الحق مرحوم کے دور میں کرکٹ ڈپلومیسی کی اصطلاح بھی استعمال ہوئی تھی۔ لیکن اب بدقسمتی سے بھارت نے کرکٹ ڈپلومیسی میں تعلقات کو بہتر بنانے کے بجائے اسے سیاسی دشمنی کے کارڈ کے طور پر استعمال کیا ہے اور اگر آئی سی سی نے بھارت کے اس طرز عمل پر کوئی ایکشن نہ لیا تو مستقبل کی کرکٹ میں اسی طرح کے واقعات کی جھلک دیکھنے کو ملے گی اور اس کی ساری ذمے داری آئی سی سی پر ہوگی، کہا جاتا ہے کہ آئی سی سی پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہے اور آئی سی سی بھارت کے خلاف کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ کھلاڑیوں کو سیاست کی نذر کرنا اور ان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ان کو پاکستان کے خلاف وہی کچھ کرنا ہے جو بھارت کی حکومت کہے گی، یہ صورت حال شرمناک ہے۔ آئی سی سی پر دنیا کے مختلف کرکٹ بورڈ کو بھی دبائو ڈالنا ہوگا کہ وہ بھارت کے اس طرز عمل پر کوئی نہ کوئی ایسا ایکشن لے جو مستقبل میں اس طرز کے واقعات کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکے۔ ایشیا کپ جیتنے کے بعد بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جس لب ولہجے میںگفتگو کی اور اس جیت کو آپریشن سیندور سے جوڑا اس کی بھی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اصولی طور پر بھارت کے مجموعی رویے نے جہاں کرکٹ کے شائقین کو مایوس کیا وہیں اس کھیل کی حقیقی روح کو بھی مجروع کیا ہے۔ بھارت نے اس کھیل کو جس طرح پاکستان کے خلاف ایک جنگی بیانیہ کے طور پر پیش کیا وہ یقینی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی میں کس حد تک آگے جاسکتا ہے۔ بھارت نے پاکستان دشمنی میں کرکٹ جیسے کھیل کو بھی خراب کیا اور بھارت کی کرکٹ ٹیم کو بطور کھیلوں کے سفیر دنیا میں بدنام کیا ہے۔ اسی طرز عمل کی وجہ سے بھارت نے عملاً کرکٹ کے ان اصولوں اور روایات کو بھی پامال کیا ہے جو اپنی پہچان رکھتے تھے۔ کرکٹ ٹیموں میں مخالف ٹیم کے بارے میں جتنی بھی شدت یا غصہ ہو مگر انہوں نے کبھی بھی کرکٹ کے کھیل کے اصول اور روایات کو پامال نہیں کیا۔ لیکن بھارت کی حکومت نے یہ سب کچھ منفی بنیادوں پر کرکے کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ابھی تو بھارت نے ایشیا کپ پاکستان سے جیتا ہے اور اگر وہ یہ کپ پاکستان سے ہار جاتے تو نہ معلوم بھارت کی اپنی ٹیم سے وہ کیا منفی سلوک کرتے۔ بھارت کے کپتان نے کپ جیتنے کے بعد اپنے میچوں کی تمام آمدنی بھارت کی فوج کو دینے کا اعلان کرکے بھی وہی کچھ کیا جو بھارت کی حکومت کا ان پر حکم تھا۔ یہ سب کچھ جو بھارت اور ان کی ٹیم نے کیا وہ یقینی طور پر کرکٹ کو نقصان پہنچانے اور اس میں سیاست کا ماحول پیدا کرنے کا سبب بنے گا جس سے کرکٹ سیاست کا رنگ اختیار کرلے گی اور کھیل کے مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کرکے کرکٹ میں سیاسی دشمنی کے رنگ کو نمایاں کیا جائے گا جو کرکٹ کے لیے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح بھارت کا میڈیا بھی پاکستان دشمنی میں نمایاں تھا اور جس طرح سے وہ پاکستان کی ٹیم اور کھیل کی تضحیک اور بھارت کا جشن منارہے تھے وہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ کھیل نہیں بلکہ ایک ملک کے خلاف دشمنی کے ساتھ اس میدان میں موجود ہیں۔ اب گیند بنیادی طور پر آئی سی سی کی کورٹ میں ہے اور اگر انہوں نے بھارت کے طرز عمل پر کوئی بڑا ایکشن نہ لیا تو اس سے کرکٹ اور خود آئی سی سی کی ساکھ بھی عالمی سطح پر بری طرح متاثر ہوگی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت کی حکومت پاکستان دشمنی ایشیا کپ کے پاکستان کے یہ سب کچھ بھارت نے بھارت کے بھارت کا کرکٹ کو نہیں کی کے خلاف کرکٹ کے کھیل کے سے کرکٹ کے کرکٹ کیا ہے کیا وہ کے بعد کی ٹیم اور اس کو بھی ہے اور

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم