بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کے سیکریٹری دیوجیت سائیکیا نے کہا ہے کہ 5 اکتوبر کو آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان مصافحے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ حالیہ ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم نے تینوں مواقع پر پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا تھا اور فائنل جیتنے کے بعد ایوارڈ تقریب میں بھی شرکت نہیں کی تھی، جہاں ٹرافی صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی نے دینا تھی۔

مزید پڑھیں: ٹرافی دینے کے لیے پہلے بھی تیار تھا، اب بھی ہوں، میرے دفتر آئیں اور ٹرافی لے لیں، محسن نقوی نے بھارتی ٹیم پر واضح کردیا

سائیکیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بھارت پاکستان کے خلاف میچ ضرور کھیلے گا اور کرکٹ کے تمام پروٹوکولز، جیسا کہ ایم سی سی قوانین میں درج ہیں، پر عمل ہوگا۔ لیکن ہاتھ ملانے یا گلے ملنے کی یقین دہانی اس وقت نہیں کر سکتا۔

اس معاملے پر بھارتی صحافی بوریا مجمدار نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کا ٹکراؤ محض ایک اور میچ نہیں ہوگا بلکہ ایشیا کپ کے سلسلے کی ہی توسیع سمجھا جائے گا، جہاں صرف جنس بدلے گی، رویہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

BCCI بھارت بھارتی کرکٹ بورڈ پاکستان دیوجیت سائیکیا مصافحہ ہینڈ شیک ویمنز ورلڈ کپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارتی کرکٹ بورڈ پاکستان مصافحہ ہینڈ شیک ویمنز ورلڈ کپ ورلڈ کپ

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا

فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔

12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔

مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔

مزید پڑھیں

فیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟

فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار

فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔

مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔

فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی